Spain On Iran War: ڈونلڈ ٹرمپ کو نیا جھٹکا! اسپین نے ایران جنگ کے لیے ایئر اسپیس اور فوجی اڈے دینے سے کیا صاف انکار، اب کیا کرے گا امریکہ؟
اسپین کی وزیر دفاع نے کہا، "ہم ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کے لیے اپنے ایئر اسپیس اور فوجی اڈوں کا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔" اس موقف کو اسپین کے وزیر معیشت کارلوس کیورو نے بھی حمایت دی اور کہا کہ اسپین ایسے جنگی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو غیر ضروری اور بغیر وجہ کے شروع کیا جائے۔
Trump theatens Iran open Strait of Hormuz: ”ہومرزکوکھولو اورجلد سمجھوتہ کرو، نہیں توتباہ کردوں گا“، ایران کو ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی دھمکی
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران کوگھٹنے ٹیکنے مجبورکرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں، لیکن ایران پوری مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کررہا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف معاہدے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران پردباؤ ڈالنے کی بھی پوری کوشش کررہے ہیں اوراس دوران انہوں نے دھمکیاں بھی دی ہیں۔
Trump amid claims of regime change: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ، ایران نے دباؤ مسترد کرتے ہوئے زمینی حملے کی دی وارننگ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی ’’رجیم چینج‘‘ کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ’’نیا گروپ‘‘ سامنے آ رہا ہے، جو بقول ان کے ’’بہت معقول رویہ‘‘ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں اور خطے میں بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز تعینات ہیں۔
Iran US Israel War: یوایس-یورپ میں ایران جنگ کے خلاف 90 لاکھ لوگوں کا احتجاج، ٹرمپ کی پالیسی پر ناراضگی، نیو یارک اور یورپی شہروں میں ‘نو کنگز’ پروٹیسٹ
وائٹ ہاؤس نے اس احتجاج کو ‘لیفٹ فنڈنگ نیٹ ورک’ کا حصہ قرار دیا، جب کہ ریپبلکن لیڈروں نے اسے ‘ہیٹ امریکہ’ ریلی کہا۔ اس دوران امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل سے نیشنل مال تک مارچ ہوا اور مظاہرین نے ‘نو کنگز’ کے نعرے لگائے
US Deploys 3,500 Marines to the Middle East: ایران کے ساتھ بڑھتے تنازع کے درمیان امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں 3,500 میرین فوجی کیے تعینات
وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کے روز پہلے رپورٹ دی تھی کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں 10,000 تک اضافی زمینی فوجیوں کو تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے، تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس سفارت کاری کے علاوہ فوجی آپشن بھی موجود ہوں۔ ان نئے فوجیوں میں پیدل فوج اور بکتر بند گاڑیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
Musk Was Not Involved in Talks Between Trump and Modi: ’’ٹرمپ اور مودی کی گفتگو میں شامل نہیں تھے ایلون مسک…‘‘، بھارت کی وضاحت
ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائی کے بعد ٹرمپ اور مودی کے درمیان یہ پہلی بات چیت تھی۔ وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں دونوں لیڈران نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور امن برقرار رکھنے پر زور دیا۔
PM Modi-Trump: مودی-ٹرمپ ٹیلی فونک گفتگو سے ایران بحران میں کمی کی امید؟ ایلون مسک کی شمولیت نے بڑھایا سسپنس
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں لیڈروں نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو انتہائی اہم قرار دیا۔ بھارت کے لیے یہ راستہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی راستے سے درآمد ہوتی ہے۔نریندر مودی نے اس گفتگو کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں امن قائم رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے حق میں ہے۔
Iran is a Hope for Democratic Order in the Region—Professor Anwar Pasha: امریکہ کی عرب پپٹ ریجن کے خلاف مزاحمت کی امید ہے ایران: پروفیسر انور پاشا
آر جے ڈی کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں جمہوریت کی بہار امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہے، عوامی بغاوت ناگزیر
America-Iran Tension Escalates: کیا آبنائے ہرمز اب کھل گیا ہے؟ ٹرمپ کے دعوے پر ایران کا سخت ردعمل، کہا— امریکہ جھوٹ بول رہا ہے، ہم دباؤ میں نہیں آئیں گے
ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ٹرمپ کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے لیے اب بھی بند ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ یا اسرائیل کی حمایت کرتا ہو۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
Donald Trump Latest Statement On India: ایران جنگ کے درمیان ٹرمپ کا بڑا اشارہ، کیا امریکہ بھارت کو ثالثی کا کردار دینا چاہتا ہے؟ جانئے مودی پر اعتماد کے پیچھے واشنگٹن کی نئی حکمت عملی
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت واشنگٹن براہ راست جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک توازن رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔





