Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ تہران نے امریکہ کے لئے اپنا سفارتی جواب تیارکرلیا ہے اور وہ مناسب وقت پراس کا اعلان کرے گا۔ ایران نے کہا کہ وہ اپنی شرائط پہلے ہی بتا چکا ہے۔

جاپان کی طرف سے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ اگر تہران امریکی مطالبات پر عمل نہیں کرتا تو ایرانی انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر حملے ہو سکتے ہیں۔

بازار میں عدم استحکام کے اثرات ایندھن کی قیمتوں میں واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ امریکہ میں خام تیل کی بڑھتی لاگت کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے حالیہ فضائی جھڑپ کے دوران امریکہ کے دو جنگی طیارے ایف 15 ای اور اے 10 کو مار گرایا تھا۔ اس کارروائی میں ایف 15 ای طیارے کے دو عملے کے ارکان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لاپتہ امریکی اہلکار کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے تاریخ کے سب سے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں بچا لیا۔ گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج نے انتہائی جرات مندانہ کارروائی کی۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ڈرون کے ذریعے اسرائیل سے منسلک ایک جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ آئی آر جی سی کے سرکاری میڈیا پلیٹ فارم سپاہ نیوز کے مطابق یہ حملہ بحرین کی ایک بندرگاہ میں اسرائیلی ملکیت کے تجارتی جہاز پر کیا گیا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کوخبردارکیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر معاہدے پرپہنچ جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ ہوا توحالات مزید خراب ہوں گے۔ ٹرمپ نے پہلے ہی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا ہے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک کے اندر میزائل اور ڈرون سے متعلق سامان کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ جنگ تقریباً جیت لی گئی ہے اور امریکہ دنیا کو ایران کے ’خطرے‘ سے آزاد کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ اور دنیا کے لیے ایران کے خطرناک خطرے کو ختم کرنے کے دہانے پر ہیں۔