Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی ’’رجیم چینج‘‘ کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ’’نیا گروپ‘‘ سامنے آ رہا ہے، جو بقول ان کے ’’بہت معقول رویہ‘‘ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں اور خطے میں بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز تعینات ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے اس احتجاج کو ‘لیفٹ فنڈنگ نیٹ ورک’ کا حصہ قرار دیا، جب کہ ریپبلکن لیڈروں نے اسے ‘ہیٹ امریکہ’ ریلی کہا۔ اس دوران امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل سے نیشنل مال تک مارچ ہوا اور مظاہرین نے ‘نو کنگز’ کے نعرے لگائے

وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کے روز پہلے رپورٹ دی تھی کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں 10,000 تک اضافی زمینی فوجیوں کو تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے، تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس سفارت کاری کے علاوہ فوجی آپشن بھی موجود ہوں۔ ان نئے فوجیوں میں پیدل فوج اور بکتر بند گاڑیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائی کے بعد ٹرمپ اور مودی کے درمیان یہ پہلی بات چیت تھی۔ وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں دونوں لیڈران نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور امن برقرار رکھنے پر زور دیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں لیڈروں نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو انتہائی اہم قرار دیا۔ بھارت کے لیے یہ راستہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی راستے سے درآمد ہوتی ہے۔نریندر مودی نے اس گفتگو کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں امن قائم رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے حق میں ہے۔

آر جے ڈی کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں جمہوریت کی بہار امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہے، عوامی بغاوت ناگزیر

ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ٹرمپ کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے لیے اب بھی بند ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ یا اسرائیل کی حمایت کرتا ہو۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت واشنگٹن براہ راست جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک توازن رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق، ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ حالانکہ، ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تیسرے فریق کے ذریعے ہلکا پھلکا پیغام رسانی ہوئی ہے۔

ایران نے مذاکرات کی ممکنہ صورتحال پر ملے جلے اشارے دیے ہیں، جب یہ خبریں آئیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس ہفتے کی شروعات میں پاکستان کے ذریعے تہران کو 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا تھا۔ عوامی سطح پر، ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ تہران نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔