Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یورپ، کوریا، جاپان اور چین کو اس کی ضرورت ہے، اس لیے انہیں اس معاملے میں آگے آنا ہوگا۔

سینیٹر وین ہولن کا کہنا تھا، “یہ ایک غیر ضروری جنگ ہے جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ اس سے ہماری سلامتی میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہو رہی ہے، اس لیے اس پر ایک ڈالر بھی خرچ نہیں ہونا چاہیے

ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حالیہ حملے میں امریکہ یا قطر کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غصے میں آ کر اس گیس فیلڈ کے ایک اہم پلانٹ کو نشانہ بنایا،

امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جوزف کینٹ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ یہ حملہ غیر ضروری تھا اور وہ اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے چین سے اپنی طے شدہ سرکاری دورے کی تاریخ کو تقریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ دورہ 28 مارچ سے یکم اپریل کے درمیان ہونا تھا، تاہم اب نئی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ماریناکس نے باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یورپی یونین کے آپریشن ’شیلڈ‘ میں یونان کی موجودہ شرکت صرف بحیرہ احمر (ریڈ سی) تک محدود ہے اور اس کا آبنائے ہرمز سے کوئی تعلق نہیں۔

امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔

امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔

امریکی دائیں بازو کی سرگرم کارکن اور ٹرمپ کی حامی لورا لومر نے اسٹیج سے ٹرمپ کا پیغام پڑھتے ہوئے کہا، ”میں نے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ بھارت کے لوگوں کو بتائیں کہ میں بھارت سے محبت کرتا ہوں، مجھے مودی سے محبت ہے اور میں بھارتی عوام کا بے حد احترام کرتا ہوں“۔

ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ اس تنازع پر پوری توجہ دے گا۔ ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس جنگ کو جیتنا ضروری ہے اور اسے جلد جیتنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ پہلے ہی سمجھتے ہیں کہ جنگ تقریباً جیت لی گئی ہے، صرف یہ سوال باقی ہے کہ اسے کب ختم کیا جائے۔