Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے اس جنگ کے بعد ایران کی جغرافیائی یا سیاسی ساخت تبدیل ہو جائے اور ملک مستقبل میں ویسا نظر نہ آئے جیسا آج ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس فوجی مہم کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو مستقل طور پر کمزور کرنا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ اس پر سابق پینٹاگون عہدیدار عالیہ عواد اللہ نے کہا ہے کہ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکہ ایران میں اپنی فوج نہ اتار دے۔ ایسا کرنے کے لیے کم از کم 22 لاکھ فوجیوں کو ایران میں تعینات کرنا پڑے گا۔

نومبر کے بعد پہلی بار روسی تیل کی ڈلیوری لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق روسی یورالز کروڈ مارچ اور اپریل کی ابتدا میں برینٹ سے 4-5 ڈالر زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، حالانکہ فروری میں یہی تیل برینٹ سے 13 ڈالر سستا تھا۔

چک شومر نے خبردار کیا کہ یہ تنازعہ اب اپنے ابتدائی دائرے سے باہر پھیلتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لڑائی کے اثرات جنوب میں بحرِ ہند تک اور شمال میں آذربائیجان تک ڈرون حملوں کی صورت میں دیکھے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بیرون ملک تعینات ایرانی سفارتکاروں سے بھی اپیل کی کہ وہ موجودہ قیادت کا ساتھ چھوڑ کر سیاسی تبدیلی کی حمایت کریں اور اگر چاہیں تو سیاسی پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ تعاون کریں گے انہیں مکمل استثنیٰ اور سکیورٹی فراہم کی جائے گی، بصورت دیگر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران اسرائیل جنگ کے درمیان، ہندوستان نے ایک سابق امریکی فوجی اہلکار کے اس دعوے کو"فرضی" قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران پرحملوں کے لیے ہندوستانی بندرگاہوں کا استعمال کررہی ہے۔ وزارت خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قراردیا ہے۔

آصف مرچنٹ پر دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس پر 2024 کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر حملے کے لیے مبینہ طور پر شوٹرز کو کرائے پر لینے کی سازش میں ایران کے ساتھ کام کرنے کا الزام ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے جواب میں امریکہ اور اسرائیل نے وسیع فوجی کارروائیاں انجام دیں۔

ایران پراسرائیل-امریکہ کے مبینہ حملے کی مخالفت میں جموں وکشمیر میں کئی مقامات پراحتجاج ہوئے۔ پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے سری نگر میں اسرائیلی وزیراعظم اورامریکی صدر کے پوسٹرجلائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آغا روح اللہ اور جنید مٹّوپرایف آئی آر کی مذمت کی۔