Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

آصف مرچنٹ پر دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس پر 2024 کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر حملے کے لیے مبینہ طور پر شوٹرز کو کرائے پر لینے کی سازش میں ایران کے ساتھ کام کرنے کا الزام ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے جواب میں امریکہ اور اسرائیل نے وسیع فوجی کارروائیاں انجام دیں۔

ایران پراسرائیل-امریکہ کے مبینہ حملے کی مخالفت میں جموں وکشمیر میں کئی مقامات پراحتجاج ہوئے۔ پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے سری نگر میں اسرائیلی وزیراعظم اورامریکی صدر کے پوسٹرجلائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آغا روح اللہ اور جنید مٹّوپرایف آئی آر کی مذمت کی۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان آج چوتھے دن بھی جنگ جاری ہے۔ پنٹاگن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلع کیا ہے کہ طویل تنازعہ گولہ بارود کے ذخیرے کو بھرنے کے لیے اہم اخراجات کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

 اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کا برین واش کرکے امریکہ کو جنگ میں پہنچا دیا۔ خفیہ رپورٹس کے خلاف ٹرمپ نے اسرائیل کے دباو میں ایران پر حملہ کرکے بڑا سیاسی تنازعہ مول لے لیا ہے۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل یا غیر معینہ مدت کی جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ ان کا بنیادی اور واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد صدر اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ کن اقدام ہی ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کا مؤثر راستہ ہے۔

ابو عاصم اعظمی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو اس تنازع کو رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں، کیونکہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایجنڈے میں دفاعی شعبے کے حوالے سے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے صنعتی ڈھانچے کو جنگی بنیادوں کے مطابق ڈھالے گا اور ہم خیال ممالک کے ساتھ اہم معدنیات پر نئے تجارتی معاہدے کرے گا۔

امریکہ 1984 سے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیتا آیا ہے، جس کی وجہ خطے میں مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت کو بتایا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی مہم آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج منصوبہ بندی کے مطابق کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔