Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان آج چوتھے دن بھی جنگ جاری ہے۔ پنٹاگن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلع کیا ہے کہ طویل تنازعہ گولہ بارود کے ذخیرے کو بھرنے کے لیے اہم اخراجات کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

 اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کا برین واش کرکے امریکہ کو جنگ میں پہنچا دیا۔ خفیہ رپورٹس کے خلاف ٹرمپ نے اسرائیل کے دباو میں ایران پر حملہ کرکے بڑا سیاسی تنازعہ مول لے لیا ہے۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل یا غیر معینہ مدت کی جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ ان کا بنیادی اور واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد صدر اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ کن اقدام ہی ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کا مؤثر راستہ ہے۔

ابو عاصم اعظمی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو اس تنازع کو رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں، کیونکہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایجنڈے میں دفاعی شعبے کے حوالے سے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے صنعتی ڈھانچے کو جنگی بنیادوں کے مطابق ڈھالے گا اور ہم خیال ممالک کے ساتھ اہم معدنیات پر نئے تجارتی معاہدے کرے گا۔

امریکہ 1984 سے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیتا آیا ہے، جس کی وجہ خطے میں مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت کو بتایا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی مہم آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج منصوبہ بندی کے مطابق کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے فوجی آپریشن کا مقصد ایران کو آزاد کرانا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہاں کی فوج اپنے ہتھیار ڈال دے، انہیں معافی مل جائے گی، ورنہ اس حکومت پر موت برسے گی۔‘

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم نے تہران میں حکومت کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ظلم کے بوجھ سے نجات حاصل کریں اور ایک آزاد، پرامن اور اقدار پر مبنی ایران کی تعمیر کریں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی کے دوران کچھ امریکی فوجیوں کی جان جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں اس طرح کے نقصانات ممکن ہوتے ہیں، لیکن یہ قدم مستقبل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔