Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ٹرمپ نے فوجی تعیناتی اور سفارت کاری کو ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، جس میں معاشی دباؤ اور قومی سلامتی دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “میں نے آٹھ جنگیں حل کیں، جن میں سے کم از کم چھ ٹیرف کے ذریعے حل ہوئیں۔”

عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، جوہری معاہدے پر پیش رفت کے اشارے، یورینیم افزودگی اور پابندیوں پر سخت اختلاف برقرار۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اس فریم ورک کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ یہ اضافی ٹیرف بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے تناظر میں لگایا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تیل کے کاروبار کو مزید وسعت دے گا اور وینزویلا کے تیل کو عالمی منڈی میں فروخت کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جو عالمی تیل کے کل ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کو لے کر لوک سبھا میں بدھ کے روز حکومت کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف سامنے آیا۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ایوان کو یقین دلایا کہ بھارت۔امریکہ ٹریڈ ڈیل مکمل طور پر متوازن ہے اور اس سے بھارتی کسانوں، زرعی شعبے اور ڈیری سیکٹر کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔

بھارت کا ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر اس معاہدے سے بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح جیمز اینڈ جیولری، جو بھارت کا اہم برآمدی شعبہ ہے، اسے بھی امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی ملنے کی امید ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیوری نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیرف اب صفر ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے کہ امریکی مصنوعات پر بھارت صفر ٹیرف لگائے گا، جبکہ بھارت کے برآمدات پر 18 فیصد ٹیرف لگے گا؟ یہ اہم سوالات ہیں، جن پر ہم واضح جواب چاہتے ہیں۔‘‘

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے مزید کہا کہ امریکہ کے ریپبلکن سینیٹروں اور دیگر منتخب لیڈران کے ایکس پوسٹس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھارت نے زراعت، کوئلہ اور دیگر شعبوں میں بھی اپنی منڈیاں کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

کانگریس پارٹی نے کہا کہ تجارتی معاہدے میں کن نکات پر بات ہوئی اور کیا طے پایا، یہ جاننا ملک کا حق ہے۔ حکومت کو اس بارے میں مکمل معلومات ملک اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنی چاہئیں۔

عالمی تجارت کے بدلتے منظرنامے میں بھارت نے برآمدات کے محاذ پر ایک اہم برتری حاصل کر لی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا اوسط ٹیرف 18 فیصد ہے، جو کئی بڑی مسابقتی برآمدی معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔