Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل یا غیر معینہ مدت کی جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ ان کا بنیادی اور واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد صدر اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ کن اقدام ہی ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کا مؤثر راستہ ہے۔

ابو عاصم اعظمی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو اس تنازع کو رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں، کیونکہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایجنڈے میں دفاعی شعبے کے حوالے سے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے صنعتی ڈھانچے کو جنگی بنیادوں کے مطابق ڈھالے گا اور ہم خیال ممالک کے ساتھ اہم معدنیات پر نئے تجارتی معاہدے کرے گا۔

امریکہ 1984 سے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیتا آیا ہے، جس کی وجہ خطے میں مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت کو بتایا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی مہم آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج منصوبہ بندی کے مطابق کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے فوجی آپریشن کا مقصد ایران کو آزاد کرانا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہاں کی فوج اپنے ہتھیار ڈال دے، انہیں معافی مل جائے گی، ورنہ اس حکومت پر موت برسے گی۔‘

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم نے تہران میں حکومت کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ظلم کے بوجھ سے نجات حاصل کریں اور ایک آزاد، پرامن اور اقدار پر مبنی ایران کی تعمیر کریں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی کے دوران کچھ امریکی فوجیوں کی جان جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں اس طرح کے نقصانات ممکن ہوتے ہیں، لیکن یہ قدم مستقبل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے پورے جنوبی ایشیائی خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ثالثی یا سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے،

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کئی بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے ہی بھارت اور پاکستان کی جنگ روکائی ہے۔ تاہم، بھارت نے اس دعوے کی مسلسل تردید کی ہے۔