Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

غزہ میں جنگ کے بعد امن و بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے مقصد سے قائم کیے گئے عالمی ”بورڈ آف پیس“ کی پہلی اہم میٹنگ امریکہ میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک نے مالی امداد، سیکیورٹی تعاون اور امن فوج کی تعیناتی سے متعلق بڑے اعلانات کیے۔ اجلاس کی صدارت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کی، جنہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 10 ارب ڈالر کی خطیر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک معاہدہ کریں گے یا کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کروائیں گے‘‘۔ بعد ازاں ایک اور تقریب میں انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ فیصلہ زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔

اجلاس کے دوران امریکی صدر نے حماس سمیت دیگر عالمی مسائل پر بھی اظہارِ خیال کیا اور بورڈ آف پیس کو عالمی قیادت کا اب تک کا سب سے اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے لیڈر اس فورم کے ذریعے عالمی امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز امریکی قومی سلامتی کونسل کے سینئر حکام نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایران سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے درکار تمام افواج مارچ کے وسط تک تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں سے بھارتی کسانوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہر معاہدے میں زراعت، ڈیری اور ماہی گیری کے شعبوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا ہے اور کسی بھی طبقے کو غیر محفوظ نہیں چھوڑا گیا۔

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایران کے حوالے سے امریکی موقف میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خیال کے لیے آمادہ نظر آ رہا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین سے ملکی اداروں پر ’قبضہ‘ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

صدر پزشکیان نے انتظامی کوتاہیوں اور خامیوں پر قوم سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ کی مدد اور انقلاب کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی دانشمندانہ رہنمائی سے کامیابی حاصل ہوگی۔

ٹرمپ نے فوجی تعیناتی اور سفارت کاری کو ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، جس میں معاشی دباؤ اور قومی سلامتی دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “میں نے آٹھ جنگیں حل کیں، جن میں سے کم از کم چھ ٹیرف کے ذریعے حل ہوئیں۔”

عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، جوہری معاہدے پر پیش رفت کے اشارے، یورینیم افزودگی اور پابندیوں پر سخت اختلاف برقرار۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اس فریم ورک کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ یہ اضافی ٹیرف بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے تناظر میں لگایا گیا تھا۔