کیرولین لیویٹ، وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری۔
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی مہم کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے درمیان عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کی عارضی اجازت دی ہے۔
اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد فیصلہ
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ، امریکی محکمہ خزانہ اور قومی سلامتی ٹیم کے درمیان تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک قریبی شراکت دار ہے اور اس نے پہلے بھی روسی تیل کی خریداری محدود کرنے میں تعاون کیا تھا۔
عالمی سپلائی میں خلا کو پُر کرنے کی کوشش
لیویٹ نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کے بحران کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں عارضی خلل پیدا ہوا ہے۔ اس خلا کو کم کرنے کے لیے بھارت کو محدود مدت کے لیے روسی تیل خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔
عارضی اقدام قرار
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف ایک عارضی اقدام ہے تاکہ عالمی توانائی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس انتظام سے روس کو کوئی خاص اقتصادی فائدہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔
آپریشن ایپک فیوری پر اپ ڈیٹ
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے ایران کے میزائل انفراسٹرکچر اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے والی امریکی فوجی کارروائی ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے بارے میں تازہ معلومات جاری کیں۔ لیویٹ کے مطابق دس دن پہلے شروع ہونے والی اس مہم میں تیزی سے پیش رفت ہوئی ہے اور اب تک پانچ ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ایران کی جوابی صلاحیت کمزور
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں میں 90 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے جبکہ ڈرون حملوں میں تقریباً 35 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
ایرانی بحری اثاثوں کو بھی نقصان
لیویٹ نے بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کے بحری اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق اب تک 50 سے زیادہ ایرانی بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جن میں ایک بڑا ڈرون کیریئر جہاز بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے بعد ایرانی بحریہ کو بڑی حد تک غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔
آپریشن کے مقاصد
انہوں نے کہا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا بنیادی مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تباہ کرنا، اس کی میزائل صنعت کو کمزور کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروہ خطے کو مزید غیر مستحکم نہ کر سکیں۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ ہو سکیں۔
آبنائے ہرمز میں توانائی سپلائی کا تحفظ
وائٹ ہاؤس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے توانائی سپلائی کے عالمی راستوں کی حفاظت کے اپنے عزم کو دوبارہ دہرایا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
