Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ اس بات چیت کے دوران دونوں لیڈران کے درمیان کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہوا، جن میں تجارت سمیت دیگر موضوعات شامل تھے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات اور کھلی دھمکیوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ ہر ممکن طریقے سے ایران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کے روز امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار جنگ آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت آئندہ ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا، جس سے نہ صرف کاراکاس کو اقتصادی فائدہ پہنچے گا بلکہ نئی دہلی ایرانی تیل سپلائی سے بھی دور ہو جائے گا۔

ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران بھی سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز استنبول میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

 ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس-یوکرین جنگ کو تقریباً چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں مشرقی یورپ کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جہاں انہوں نے ایران کو پہلے سے بھی بڑے حملے کی دھمکی دی، وہیں اب انہوں نے تہران کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دے کر اپنے مؤقف میں واضح نرمی دکھائی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے چھ تباہ کن جنگی جہاز اور ایک ایئرکرافٹ کیریئر پہلے ہی موجود ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

۔ بیسنٹ نے کہا کہ اس عمل کے ذریعے یورپی ممالک دراصل اسی جنگ کو فنڈ کر رہے ہیں، جس کے اثرات انہیں خود بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں۔امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ امریکہ نے روسی توانائی سے خود کو الگ کرنے کے لیے سخت اقتصادی فیصلے کیے ہیں اور پابندیوں کے باعث زیادہ سیاسی و معاشی بوجھ بھی برداشت کیا ہے،