Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے اب تک دنیا کے آٹھ بڑے جنگی تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم ممکنہ جوہری جنگ میں مداخلت نہ کرتے، تو تین کروڑ افراد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کی موت ہو جاتی‘‘۔

فلوریڈا میں واقع مار اے لاگو میں ڈونالڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ میں شاٹ گن لے کر داخل ہونے والے 21 سالہ نوجوان کو سکیورٹی اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کے وقت ڈونالڈ ٹرمپ وہاں موجود نہیں تھے۔

ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بھارتی شہری ابھی تک سفارت خانے میں رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں۔ اگر ایران میں انٹرنیٹ مسائل کے باعث رجسٹریشن ممکن نہ ہو تو بھارت میں موجود اہل خانہ یہ عمل مکمل کر سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص ایک نوجوان تھا جس کی عمر تقریباً 20 سال یا اس سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ڈیڑھ بجے ویسٹ پام بیچ میں واقع پراپرٹی کے نارتھ گیٹ کی جانب ایک شاٹ گن اور فیول کین کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ نے عالمی محصولات (گلوبل ٹیرف) غیر قانونی قرار دے کر بڑا دھچکا دیا۔ فیصلے کے صرف 24 گھنٹے کے اندر ہی ٹرمپ نے نیا اعلان کرتے ہوئے عالمی ٹیرف کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد سے بھارت اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ’’یو ایس۔انڈیا اے آئی مواقع شراکت داری‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اہم معاہدہ ’’پیکس سیلیکا اعلامیہ‘‘ کے تحت دوطرفہ ضمیمے کے طور پر طے پایا، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا ہے، تاہم ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت بدستور 18 فیصد ٹیرف ادا کرتا رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط رہیں گے۔

امریکی انتظامیہ کے مطابق نیا عالمی ٹیرف ابتدائی طور پر 150 دن تک نافذ رہے گا۔ اس مدت کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات اور محصولات کی شرح کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں بعض ممالک پر اس سے بھی زیادہ ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے،

غزہ میں جنگ کے بعد امن و بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے مقصد سے قائم کیے گئے عالمی ”بورڈ آف پیس“ کی پہلی اہم میٹنگ امریکہ میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک نے مالی امداد، سیکیورٹی تعاون اور امن فوج کی تعیناتی سے متعلق بڑے اعلانات کیے۔ اجلاس کی صدارت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کی، جنہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 10 ارب ڈالر کی خطیر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک معاہدہ کریں گے یا کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کروائیں گے‘‘۔ بعد ازاں ایک اور تقریب میں انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ فیصلہ زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔