Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تیل کے کاروبار کو مزید وسعت دے گا اور وینزویلا کے تیل کو عالمی منڈی میں فروخت کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جو عالمی تیل کے کل ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کو لے کر لوک سبھا میں بدھ کے روز حکومت کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف سامنے آیا۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ایوان کو یقین دلایا کہ بھارت۔امریکہ ٹریڈ ڈیل مکمل طور پر متوازن ہے اور اس سے بھارتی کسانوں، زرعی شعبے اور ڈیری سیکٹر کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔

بھارت کا ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر اس معاہدے سے بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح جیمز اینڈ جیولری، جو بھارت کا اہم برآمدی شعبہ ہے، اسے بھی امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی ملنے کی امید ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیوری نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیرف اب صفر ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے کہ امریکی مصنوعات پر بھارت صفر ٹیرف لگائے گا، جبکہ بھارت کے برآمدات پر 18 فیصد ٹیرف لگے گا؟ یہ اہم سوالات ہیں، جن پر ہم واضح جواب چاہتے ہیں۔‘‘

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے مزید کہا کہ امریکہ کے ریپبلکن سینیٹروں اور دیگر منتخب لیڈران کے ایکس پوسٹس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھارت نے زراعت، کوئلہ اور دیگر شعبوں میں بھی اپنی منڈیاں کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

کانگریس پارٹی نے کہا کہ تجارتی معاہدے میں کن نکات پر بات ہوئی اور کیا طے پایا، یہ جاننا ملک کا حق ہے۔ حکومت کو اس بارے میں مکمل معلومات ملک اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنی چاہئیں۔

عالمی تجارت کے بدلتے منظرنامے میں بھارت نے برآمدات کے محاذ پر ایک اہم برتری حاصل کر لی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا اوسط ٹیرف 18 فیصد ہے، جو کئی بڑی مسابقتی برآمدی معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ اس بات چیت کے دوران دونوں لیڈران کے درمیان کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہوا، جن میں تجارت سمیت دیگر موضوعات شامل تھے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات اور کھلی دھمکیوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ ہر ممکن طریقے سے ایران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کے روز امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار جنگ آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی۔