Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

گزشتہ برس بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کے بعد امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر درآمدی محصولات بڑھا کر 50 فیصد تک کر دیے تھے، جو عالمی سطح پر بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔

گرین لینڈ کی مقامی حکومت نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے اور ہنگامی حالات کے لیے کم از کم پانچ دن کا ضروری سامان ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادھر ٹرمپ نے بھارت کے حوالے سے بھی نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر گرین لینڈ کے معاملے پر ایک بار پھر جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں صرف امریکہ ہی ایسا ملک ہے جو گرین لینڈ کی مؤثر حفاظت کر سکتا ہے۔

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی امریکی دھمکیوں کے درمیان بھارت کے لیے واشنگٹن سے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مجوزہ سخت تجارتی پالیسی کا اصل ہدف بھارت نہیں بلکہ چین ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سرحدی تحفظ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے بے حد ضروری ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ غیر قانونی دراندازی تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور موجودہ وقت میں امریکہ کی سرحدیں تاریخ کی سب سے مضبوط حالت میں ہیں۔

گرین لینڈ پر قبضے کے اپنے متنازع مؤقف کے بعد امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب بحرِ ہند میں واقع چاغوس جزائر کا معاملہ بھی چھیڑ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت چاغوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر نے ناروے کے وزیراعظم کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے نوبل امن انعام نہ ملنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے گرین لینڈ پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ کا مطالبہ کیا ہے اور نیٹو کے حوالے سے بھی ایک بڑا بیان دیا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو لے کر عالمی سیاست میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ مسلسل گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات دے رہا ہے، تو دوسری جانب ڈنمارک اس معاملے پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ اسی دوران روس اور چین بھی اس خطے میں بڑھتی امریکی دلچسپی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو لے کر ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نئی وارننگ جاری کی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے اس اسٹریٹجک خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں اس سمت میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی اور تکنیکی کشیدگی کا اثر اب امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر کھل کر نظر آنے لگا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے منظوری ملنے کے باوجود چین نے دنیا کی سب سے قیمتی سیمی کنڈکٹر کمپنی اینویڈیا کی جدید ترین اور طاقتور آرٹیفیشل انٹیلیجنس چِپ ایچ-200 کی اپنے ملک میں انٹری پر پابندی عائد کر دی ہے۔