Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

بھارت کا ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر اس معاہدے سے بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح جیمز اینڈ جیولری، جو بھارت کا اہم برآمدی شعبہ ہے، اسے بھی امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی ملنے کی امید ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیوری نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیرف اب صفر ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے کہ امریکی مصنوعات پر بھارت صفر ٹیرف لگائے گا، جبکہ بھارت کے برآمدات پر 18 فیصد ٹیرف لگے گا؟ یہ اہم سوالات ہیں، جن پر ہم واضح جواب چاہتے ہیں۔‘‘

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے مزید کہا کہ امریکہ کے ریپبلکن سینیٹروں اور دیگر منتخب لیڈران کے ایکس پوسٹس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھارت نے زراعت، کوئلہ اور دیگر شعبوں میں بھی اپنی منڈیاں کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

کانگریس پارٹی نے کہا کہ تجارتی معاہدے میں کن نکات پر بات ہوئی اور کیا طے پایا، یہ جاننا ملک کا حق ہے۔ حکومت کو اس بارے میں مکمل معلومات ملک اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنی چاہئیں۔

عالمی تجارت کے بدلتے منظرنامے میں بھارت نے برآمدات کے محاذ پر ایک اہم برتری حاصل کر لی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا اوسط ٹیرف 18 فیصد ہے، جو کئی بڑی مسابقتی برآمدی معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ اس بات چیت کے دوران دونوں لیڈران کے درمیان کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہوا، جن میں تجارت سمیت دیگر موضوعات شامل تھے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات اور کھلی دھمکیوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ ہر ممکن طریقے سے ایران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کے روز امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار جنگ آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت آئندہ ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا، جس سے نہ صرف کاراکاس کو اقتصادی فائدہ پہنچے گا بلکہ نئی دہلی ایرانی تیل سپلائی سے بھی دور ہو جائے گا۔

ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران بھی سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز استنبول میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔