India participation in Gaza Peace Board: صدر ٹرمپ کی وزیراعظم مودی کو غزہ پیں بورڈ میں شمولیت کی دعوت
امریکہ میں بھارت کے لیے تعینات امریکی سفیر سارجیو گورے نے صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو یہ دعوت پہنچائی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پیغام وزیر اعظم مودی تک پہنچا رہے ہیں اور غزہ پیس بورڈ میں بھارت کی شرکت خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔
Greenland Protest: گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں! دارالحکومت نوک کی 25 فیصد آبادی سڑکوں پر، ٹرمپ کے خلاف ’یانکی گو ہوم‘ کے نعرے
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کے خلاف اب خود گرین لینڈ میں عوامی غصہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ دارالحکومت نوک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور واضح پیغام دیا کہ ”گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے“۔
Macron’s response to Trump’s statement: ’’گرین لینڈ پر امریکی ٹیرف کی دھمکیاں ناقابل قبول…یورپ متحد ہو کر دے گا جواب…‘‘، ٹرمپ کے بیان پر ایمانوئیل میکرون کا ردعمل
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی سلطنت کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے، جہاں دفاع اور خارجہ پالیسی کا اختیار کوپن ہیگن کے پاس ہے۔ امریکہ کا اس جزیرے پر ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ سال 2025 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
Khamenei claims to thwart a US-backed ‘conspiracy’: ’’ایران نے ایک بار پھر امریکہ کی حمایت یافتہ ’سازش‘ کو مکمل طور پر بنایا ناکام…‘‘، خامنہ ای کا دعویٰ
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پُرامن مظاہروں کو شرپسند عناصر نے تشدد میں بدل دیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے بدامنی کے سلسلے میں تقریباً 3,000 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
Iran Protest: ایران میں نئی لیڈرشپ کے بارے میں سوچا جائے، ٹرمپ کا سخت مؤقف، خامنہ ای نے ان ہلاکتوں اورنقصان کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیانات کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو “غدار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی “کمر توڑ دی جائے گی”۔ خامنہ ای نے ان ہلاکتوں اور نقصان کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا،
Why did the US back down from attacking Iran?: کیا خامنہ ای کی اسلامی حکومت رہے گی برقرار؟ ٹرمپ کے نرم ہوتے تیور اور بدلتی عالمی حکمت عملی
ادھر اسرائیل نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ برنیا ایران سے متعلق بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر ایران میں مزید خونریزی ہوئی تو اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوں گے۔
Naaja Nathanielsen reaction on Trump Threat: ٹرمپ کی دھمکیوں پر گرین لینڈ کا سخت ردعمل،کہا-ہم امریکا کا حصہ نہیں بننا چاہتے، عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتی ہے
گرین لینڈ کی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کبھی گرین لینڈ پر حملے جیسا کوئی قدم اٹھایا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ ان کے مطابق ایسا ہوا تو موجودہ عالمی نظام مکمل طور پر بدل سکتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک نیا اور خطرناک موڑ آ سکتا ہے۔
Gaza Peace Plan: غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز، امریکہ نے حماس کو کیا خبردار، کہا- شرائط پر عمل نہیں ہوا تو بھگتنے ہوں گے سنگین نتائج
امریکی حکام نے دوسرے مرحلے کو پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔ وٹکوف کے مطابق، پہلے مرحلے میں زمینی سطح پر اہم انسانی اور سکیورٹی سے متعلق نتائج سامنے آئے۔
Iran television threat to Trump: اس بار نشانہ نہیں چوکے گا، ایرانی سرکاری چینل سے ملی ٹرمپ کو دھمکی
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری چینل نے جولائی 2024 میں امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں منعقدہ انتخابی جلسے کی ایک تصویر دکھائی۔ اس واقعے میں ٹرمپ پر گولی چلائی گئی تھی جو انہیں معمولی سا چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ جو پیغام نشر کیا گیا، اس میں لکھا تھا: ’’اس بار نشانہ چوکنے والا نہیں ہے۔‘‘
Donald Trump Tariffs: ٹرمپ ٹیرف پر امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ آج، ہار کی صورت میں واپس کرنے ہوں گے اربوں ڈالر، ٹرمپ کا انتباہ— ایسا نہ ہو، ورنہ امریکہ تباہ ہو جائے گا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی تجارتی ٹیرف سے متعلق ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سماعت کا فیصلہ آج امریکی سپریم کورٹ سنانے والی ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وقت کے مطابق رات تقریباً 8:30 بجے تک متوقع ہے۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی تجارت پر بھی گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالتِ عظمیٰ ٹرمپ حکومت کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو امریکہ کو اب تک وصول کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جسے ٹرمپ نے ملک کے لیے ”تباہ کن“ قرار دیا ہے۔





