Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی امریکی دھمکیوں کے درمیان بھارت کے لیے واشنگٹن سے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مجوزہ سخت تجارتی پالیسی کا اصل ہدف بھارت نہیں بلکہ چین ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سرحدی تحفظ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے بے حد ضروری ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ غیر قانونی دراندازی تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور موجودہ وقت میں امریکہ کی سرحدیں تاریخ کی سب سے مضبوط حالت میں ہیں۔

گرین لینڈ پر قبضے کے اپنے متنازع مؤقف کے بعد امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب بحرِ ہند میں واقع چاغوس جزائر کا معاملہ بھی چھیڑ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت چاغوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر نے ناروے کے وزیراعظم کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے نوبل امن انعام نہ ملنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے گرین لینڈ پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ کا مطالبہ کیا ہے اور نیٹو کے حوالے سے بھی ایک بڑا بیان دیا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو لے کر عالمی سیاست میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ مسلسل گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات دے رہا ہے، تو دوسری جانب ڈنمارک اس معاملے پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ اسی دوران روس اور چین بھی اس خطے میں بڑھتی امریکی دلچسپی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو لے کر ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نئی وارننگ جاری کی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے اس اسٹریٹجک خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں اس سمت میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی اور تکنیکی کشیدگی کا اثر اب امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر کھل کر نظر آنے لگا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے منظوری ملنے کے باوجود چین نے دنیا کی سب سے قیمتی سیمی کنڈکٹر کمپنی اینویڈیا کی جدید ترین اور طاقتور آرٹیفیشل انٹیلیجنس چِپ ایچ-200 کی اپنے ملک میں انٹری پر پابندی عائد کر دی ہے۔

امریکہ میں بھارت کے لیے تعینات امریکی سفیر سارجیو گورے نے صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو یہ دعوت پہنچائی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پیغام وزیر اعظم مودی تک پہنچا رہے ہیں اور غزہ پیس بورڈ میں بھارت کی شرکت خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کے خلاف اب خود گرین لینڈ میں عوامی غصہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ دارالحکومت نوک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور واضح پیغام دیا کہ ”گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے“۔

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی سلطنت کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے، جہاں دفاع اور خارجہ پالیسی کا اختیار کوپن ہیگن کے پاس ہے۔ امریکہ کا اس جزیرے پر ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ سال 2025 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔