Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

 ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس-یوکرین جنگ کو تقریباً چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں مشرقی یورپ کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جہاں انہوں نے ایران کو پہلے سے بھی بڑے حملے کی دھمکی دی، وہیں اب انہوں نے تہران کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دے کر اپنے مؤقف میں واضح نرمی دکھائی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے چھ تباہ کن جنگی جہاز اور ایک ایئرکرافٹ کیریئر پہلے ہی موجود ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

۔ بیسنٹ نے کہا کہ اس عمل کے ذریعے یورپی ممالک دراصل اسی جنگ کو فنڈ کر رہے ہیں، جس کے اثرات انہیں خود بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں۔امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ امریکہ نے روسی توانائی سے خود کو الگ کرنے کے لیے سخت اقتصادی فیصلے کیے ہیں اور پابندیوں کے باعث زیادہ سیاسی و معاشی بوجھ بھی برداشت کیا ہے،

مشرق وسطیٰ میں ایران کو گھیرنے کی امریکی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب عراق میں شیعہ اتحاد نے سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کے نام کو ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نوری المالکی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ المالکی آسانی کے ساتھ عراق کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہو سکتے ہیں۔

چین کے معاملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو ’’گورنر‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کینیڈا ایسا کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

ایران پراگلے کچھ گھنٹوں میں انٹرنیشنل میڈیا رپورٹوں کے مطابق، بڑا حملہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کی وجہ سے ایران اوراسرائیل کے ہوائی علاقوں سے گزرنے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

امریکہ نے بھارت پر دو مرحلوں میں ٹیرف عائد کیا تھا۔ پہلے 25فیصد ٹیرف لگایا گیا، اور پھر روس سے تیل خریدنے پر مزید 25فیصد کا ٹیرف عائد کر دیا گیا تھا۔

امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے الگ ہو گیا ہے۔ طویل عرصے سے جاری انتباہات اور خدشات کے باوجود امریکہ نے تنظیم سے نکلنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کے عالمی صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔