Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پُرامن مظاہروں کو شرپسند عناصر نے تشدد میں بدل دیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے بدامنی کے سلسلے میں تقریباً 3,000 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیانات کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو “غدار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی “کمر توڑ دی جائے گی”۔ خامنہ ای نے ان ہلاکتوں اور نقصان کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا،

ادھر اسرائیل نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ برنیا ایران سے متعلق بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر ایران میں مزید خونریزی ہوئی تو اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوں گے۔

گرین لینڈ کی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کبھی گرین لینڈ پر حملے جیسا کوئی قدم اٹھایا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ ان کے مطابق ایسا ہوا تو موجودہ عالمی نظام مکمل طور پر بدل سکتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک نیا اور خطرناک موڑ آ سکتا ہے۔

امریکی حکام نے دوسرے مرحلے کو پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔ وٹکوف کے مطابق، پہلے مرحلے میں زمینی سطح پر اہم انسانی اور سکیورٹی سے متعلق نتائج سامنے آئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری چینل نے جولائی 2024 میں امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں منعقدہ انتخابی جلسے کی ایک تصویر دکھائی۔ اس واقعے میں ٹرمپ پر گولی چلائی گئی تھی جو انہیں معمولی سا چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ جو پیغام نشر کیا گیا، اس میں لکھا تھا: ’’اس بار نشانہ چوکنے والا نہیں ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی تجارتی ٹیرف سے متعلق ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سماعت کا فیصلہ آج امریکی سپریم کورٹ سنانے والی ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وقت کے مطابق رات تقریباً 8:30 بجے تک متوقع ہے۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی تجارت پر بھی گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالتِ عظمیٰ ٹرمپ حکومت کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو امریکہ کو اب تک وصول کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، جسے ٹرمپ نے ملک کے لیے ”تباہ کن“ قرار دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی وارننگ کے بعد قطر میں قائم امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

رضا پہلوی نے الزام لگایا کہ حالیہ پرتشدد کارروائیوں اور مبینہ قتلِ عام کے بعد عوام اور موجودہ حکومت کے درمیان “خون کا ساگر” بہہ چکا ہے۔ ان کے مطابق اب تک 2400 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے یہ بھی کہا کہ وہ ان افراد کے نام اور تفصیلات محفوظ کریں جو مبینہ جرائم میں ملوث ہیں، تاکہ مستقبل میں انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جا سکے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، اسی دوران چین کے سرکاری میڈیا نے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیو کے ذریعے ٹرمپ حکومت کا مذاق اڑایا ہے۔