Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی وارننگ کے بعد قطر میں قائم امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

رضا پہلوی نے الزام لگایا کہ حالیہ پرتشدد کارروائیوں اور مبینہ قتلِ عام کے بعد عوام اور موجودہ حکومت کے درمیان “خون کا ساگر” بہہ چکا ہے۔ ان کے مطابق اب تک 2400 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے یہ بھی کہا کہ وہ ان افراد کے نام اور تفصیلات محفوظ کریں جو مبینہ جرائم میں ملوث ہیں، تاکہ مستقبل میں انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جا سکے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، اسی دوران چین کے سرکاری میڈیا نے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیو کے ذریعے ٹرمپ حکومت کا مذاق اڑایا ہے۔

ایران میں جاری شدید اور پرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پہلی مرتبہ ایرانی حکام نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر کی اولین ترجیح تشدد کو روکنا ہے، ساتھ ہی ایران کے حکام کی جانب سے موصول ہونے والے نجی پیغامات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر نہیں چاہتے کہ تہران کی سڑکوں پر لوگوں کی جانیں جائیں، لیکن بدقسمتی سے فی الحال ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے موجودہ بحران اور خونریز تصادم کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہیں، جہاں عوام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔ امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں جاری ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس حوالے سے اگلی باضابطہ ملاقات منگل کو ہونے جا رہی ہے۔ یہ بات بھارت میں حال ہی میں تعینات ہونے والے امریکی سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز نئی دہلی میں کہی۔

امریکہ نے وینزویلا سے منسلک تیل بردار جہازوں کو ضبط کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ عالمی توانائی سپلائی پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا جا سکے۔ اس اقدام کا سب سے بڑا نقصان کیوبا کو ہو رہا ہے، جہاں پہلے ہی بجلی کی شدید قلت ہے اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالات مزید بگڑ کر بڑے پیمانے پر عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔

امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے روسی صدر کو بھی اسی طرح گرفتار کرنے کا اشارہ دیا۔