Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس-یوکرین جنگ کو پیچیدہ قرار دیا اور اسے بائیڈن کی جنگ کہا۔ انہوں نے پوتن اور زیلنسکی کے درمیان سمجھوتے کے امکانات کا بھی اظہار کیا ہے۔

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ماضی کے تجربات اور گزشتہ برس کی جنگوں سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔

دنیا کی سفارتی سیاست میں اس وقت گرین لینڈ کو لے کر غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس برف پوش جزیرے کو اسٹریٹجک اہمیت کے باعث حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، تو دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس معاملے میں ایسا بیان دے کر سب کو چونکا دیا ہے جسے مبصرین ’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دے رہے ہیں۔

سعودی عرب، ترکیہ اورپاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی اورانتظامی نظام قائم کرنا ہے۔ حالانکہ اسرائیل نے اس پرناراضگی کا اظہارکیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے قائم کیے گئے مجوزہ ”غزہ پیس بورڈ“ کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دھچکا لگا ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والے تین مستقل ارکان فرانس، چین اور برطانیہ نے اس بورڈ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

گزشتہ برس بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کے بعد امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر درآمدی محصولات بڑھا کر 50 فیصد تک کر دیے تھے، جو عالمی سطح پر بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔

گرین لینڈ کی مقامی حکومت نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے اور ہنگامی حالات کے لیے کم از کم پانچ دن کا ضروری سامان ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادھر ٹرمپ نے بھارت کے حوالے سے بھی نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر گرین لینڈ کے معاملے پر ایک بار پھر جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں صرف امریکہ ہی ایسا ملک ہے جو گرین لینڈ کی مؤثر حفاظت کر سکتا ہے۔

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی امریکی دھمکیوں کے درمیان بھارت کے لیے واشنگٹن سے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مجوزہ سخت تجارتی پالیسی کا اصل ہدف بھارت نہیں بلکہ چین ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سرحدی تحفظ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے بے حد ضروری ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ غیر قانونی دراندازی تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور موجودہ وقت میں امریکہ کی سرحدیں تاریخ کی سب سے مضبوط حالت میں ہیں۔