نئی دہلی: ریپبلکن لیڈر اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ بالآخر طے پا گیا ہے۔ تقریباً ایک سال تک جاری سخت مذاکرات کے بعد مکمل ہونے والا یہ معاہدہ نہ صرف نئی دہلی اور واشنگٹن کے لیے ایک اہم سفارتی و اقتصادی کامیابی ہے بلکہ اس نے بھارت کو خطے کے اہم حریف ممالک چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تجارتی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
معاہدے کے تحت امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف کم کرکے 18 فیصد کر دیا ہے۔ نظرِ ثانی شدہ ٹیرف ڈھانچے کے بعد بھارت کو کئی مسابقتی برآمدی معیشتوں کے مقابلے میں کم ٹیرف کی سہولت حاصل ہو گئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں بھارتی برآمدات کو واضح برتری ملنے کی توقع ہے۔
عالمی تجارت کے بدلتے منظرنامے میں بھارت نے برآمدات کے محاذ پر ایک اہم برتری حاصل کر لی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا اوسط ٹیرف 18 فیصد ہے، جو کئی بڑی مسابقتی برآمدی معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔ انڈونیشیا میں یہ شرح 19 فیصد، جبکہ ویتنام اور بنگلہ دیش میں 20 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ ٹیرف چین پر عائد ہے، جہاں یہ شرح 34 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
پی ایم مودی نے امریکی صدر کا ادا کیا شکریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر عائد ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کر دیا ہے۔ اس بات کی جانکاری صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے دی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آج اپنے عزیز دوست صدر ٹرمپ سے بات کر کے بہت خوشی ہوئی۔ یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ اب ’میڈ اِن انڈیا‘ مصنوعات پر ٹیرف کم ہو کر 18 فیصد رہ جائے گا۔ اس شاندار اعلان پر بھارت کی 140 کروڑ آبادی کی جانب سے صدر ٹرمپ کا تہہ دل سے شکریہ۔‘‘
ٹرمپ نے کی پی ایم مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ اس بات چیت کے دوران دونوں لیڈران کے درمیان کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال ہوا، جن میں تجارت سمیت دیگر موضوعات شامل تھے۔ اس کی جانکاری بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے دی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



