Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

مشرق وسطیٰ میں ایران کو گھیرنے کی امریکی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب عراق میں شیعہ اتحاد نے سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کے نام کو ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نوری المالکی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ المالکی آسانی کے ساتھ عراق کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہو سکتے ہیں۔

چین کے معاملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو ’’گورنر‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کینیڈا ایسا کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

ایران پراگلے کچھ گھنٹوں میں انٹرنیشنل میڈیا رپورٹوں کے مطابق، بڑا حملہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کی وجہ سے ایران اوراسرائیل کے ہوائی علاقوں سے گزرنے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

امریکہ نے بھارت پر دو مرحلوں میں ٹیرف عائد کیا تھا۔ پہلے 25فیصد ٹیرف لگایا گیا، اور پھر روس سے تیل خریدنے پر مزید 25فیصد کا ٹیرف عائد کر دیا گیا تھا۔

امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے الگ ہو گیا ہے۔ طویل عرصے سے جاری انتباہات اور خدشات کے باوجود امریکہ نے تنظیم سے نکلنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس کے عالمی صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس-یوکرین جنگ کو پیچیدہ قرار دیا اور اسے بائیڈن کی جنگ کہا۔ انہوں نے پوتن اور زیلنسکی کے درمیان سمجھوتے کے امکانات کا بھی اظہار کیا ہے۔

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ماضی کے تجربات اور گزشتہ برس کی جنگوں سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔

دنیا کی سفارتی سیاست میں اس وقت گرین لینڈ کو لے کر غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس برف پوش جزیرے کو اسٹریٹجک اہمیت کے باعث حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، تو دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس معاملے میں ایسا بیان دے کر سب کو چونکا دیا ہے جسے مبصرین ’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دے رہے ہیں۔

سعودی عرب، ترکیہ اورپاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی اورانتظامی نظام قائم کرنا ہے۔ حالانکہ اسرائیل نے اس پرناراضگی کا اظہارکیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے قائم کیے گئے مجوزہ ”غزہ پیس بورڈ“ کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دھچکا لگا ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والے تین مستقل ارکان فرانس، چین اور برطانیہ نے اس بورڈ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔