واشنگٹن: گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے امریکہ کی مختلف حکومتیں ایران پر یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں امریکی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں براہِ راست ملوث رہا ہے یا ایسے عناصر کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ پیر کے روز جاری ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے ایران کو ’’دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا سرپرست ملک‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ “ایران نے دنیا کے کسی بھی دوسرے دہشت گرد نظام سے زیادہ امریکیوں کو ہلاک کیا ہے۔”
بیان میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ وہ اقدامات کر رہے ہیں جن سے “گزشتہ پانچ دہائیوں کے صدور گریز کرتے رہے، یعنی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا۔” مزید کہا گیا کہ “ایران کے میزائل نظام کو تباہ کرکے، اس کی بحری صلاحیت کو ختم کرکے اور اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کو یقینی بنا کر ٹرمپ انتظامیہ امریکی عوام کی جان بچا رہی ہے اور امریکی مفادات کو آگے بڑھا رہی ہے۔”
وائٹ ہاؤس نے ایران اور اس کے مبینہ پراکسی گروہوں سے منسوب حملوں کا جزوی ریکارڈ بھی پیش کیا۔ بیان کے مطابق نومبر 1979 میں ایران میں حکومت کی حمایت یافتہ طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور 444 دن تک جاری رہنے والے بحران میں 66 امریکیوں کو یرغمال بنایا۔ اپریل 1983 میں بیروت میں امریکی سفارت خانے پر خودکش کار بم دھماکے میں 17 امریکی ہلاک ہوئے۔ اسی سال اکتوبر میں بیروت میں ایک میرین کمپاؤنڈ پر ٹرک بم حملے میں 241 امریکی فوجی مارے گئے۔
1980 اور 1990 کی دہائیوں میں متعدد بم دھماکوں، طیارہ اغوا اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کا الزام ایران کے حمایت یافتہ گروہوں پر عائد کیا گیا، جن میں حزب اللہ، حماس، اور اسلامی جہاد شامل ہیں۔ ان میں 1996 میں سعودی عرب میں امریکی فضائیہ کے رہائشی کمپلیکس پر ٹرک بم حملہ بھی شامل ہے، جس میں 19 امریکی اہلکار ہلاک اور تقریباً 500 زخمی ہوئے۔ اسی طرح 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم دھماکوں میں ایک درجن امریکیوں سمیت 224 افراد مارے گئے۔
بیان میں عراق جنگ کے دوران حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ 2003 سے 2011 کے درمیان ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے عراق میں کم از کم 603 امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا، جو اس عرصے میں مارے جانے والے ہر چھ میں سے تقریباً ایک امریکی فوجی کے برابر ہے۔
حالیہ برسوں میں عراق، شام اور اردن میں راکٹ اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے کہا کہ جنوری 2024 میں ایران کے حمایت یافتہ کتائب حزب اللہ نے اردن میں ایک امریکی اڈے پر ڈرون حملہ کیا، جس میں تین امریکی فوجی ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔
بیان کے مطابق اکتوبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان ایران اور اس کے مبینہ پراکسی گروہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کے خلاف 180 سے زائد حملے کیے، جن میں 180 سے زیادہ اہلکار زخمی اور تین ہلاک ہوئے۔
امریکہ 1984 سے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیتا آیا ہے، جس کی وجہ خطے میں مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت کو بتایا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

