نئی دہلی :پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو جلد کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم بحری راستہ ایران کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات پاکستان میں ہونے والی مجوزہ بات چیت سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ آبنائے ہرمز کو جلد بحال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، “ہم آبنائے ہرمز کو کھول دیں گے، چاہے وہ ساتھ دیں یا نہ دیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت جلد ہو جائے گا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم خود اسے مکمل کریں گے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے، جہاں کسی بھی ملک کو ٹول یا فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران جہازوں سے گزرنے کے لیے فیس وصول کر سکتا ہے تو انہوں نے سختی سے اس امکان کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ بین الاقوامی پانی ہے، اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم اسے روکیں گے۔” ان کے اس بیان سے واضح اشارہ ملا ہے کہ امریکہ اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
ایران کی فوجی طاقت پر بھی تبصرہ
ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے دوران ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے بہترین معاہدہ وہی ہوگا جس میں ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ان کی شرائط میں شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران میں پہلے ہی نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں اور اب صورتحال ماضی سے مختلف ہے۔
مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ممکن
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان میں ہونے والی بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو امریکہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے جہازوں میں جدید ترین ہتھیار نصب کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان کا مؤثر استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا، “ہم اپنے بحری جہازوں کو بہترین ہتھیاروں سے لیس کر رہے ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ہم ان کا مؤثر استعمال کریں گے۔” ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
عالمی نظریں اہم مذاکرات پر
ٹرمپ کے حالیہ بیان سے واضح ہے کہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب فوجی تیاری بھی مکمل رکھی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔اب دنیا بھر کی نظریں پاکستان میں ہونے والی اس اہم ملاقات پر مرکوز ہیں، جس سے یہ طے ہوگا کہ خطے میں کشیدگی کم ہوگی یا حالات مزید سنگین رخ اختیار کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

