US Strikes Key Iranian Bridge: امریکہ نے ایران کے ایک اہم پل پر کیا حملہ، ٹرمپ کی وارننگ، ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے
امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک کے اندر میزائل اور ڈرون سے متعلق سامان کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔
Trump address to the nation on Iran War: ’’ایران کے خلاف کارروائی بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری…‘‘، ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی دی دھمکی
ٹرمپ نے کہا کہ جنگ تقریباً جیت لی گئی ہے اور امریکہ دنیا کو ایران کے ’خطرے‘ سے آزاد کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ اور دنیا کے لیے ایران کے خطرناک خطرے کو ختم کرنے کے دہانے پر ہیں۔
Iranian President Pens Open Letter to US: ایران کے صدر نے امریکی عوام کے نام لکھا کھلا خط، کہا – ہمیں امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں
ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ بڑے حملے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے پر حملہ دراصل ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اقدامات’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آئیں گے اور ان کے اثرات ایران کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
Donald Trump’s open threat to Iran: سمجھوتہ نہ ہوا تو ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے،تہران کو ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی دھمکی
ٹرمپ نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر اور پہلے کیے گئے امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے کہیں اور پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اسے بھی ناکام بنا دیا گیا۔
Iran-US-Israel Conflict: برطانیہ نے ایران جنگ میں شامل ہونے سے کیا انکار، 35 ممالک کا عالمی اجلاس طلب، ٹرمپ کو بڑا سفارتی جھٹکا
کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔
Iran vs US-Israel War: ایران جنگ بندی کا خواہاں، ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا دعویٰ، رکھی سخت شرائط، ایران کا انکار، خلیج میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی سطح پر جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔
UN Envoy Resigns Over Claims Of Planned Nuclear Strike On Iran: ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ! اقوام متحدہ کے نمائندے کا دعویٰ- ایران پر ایٹم بم گرانے کی تیاری کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل
محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
US-Israel vs Iran Conflict: ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا دعویٰ، امریکی وزیر دفاع نے کہا- ’’میں نئی حکومت سے کہہ رہا ہوں کہ وہ معاہدہ کرے ورنہ مزید بڑے حملے ہوں گے‘‘
امریکی وزیر دفاع نے یہ بیان پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے تیار ہیں اور ایران کو پہلے ہی امریکی شرائط سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امریکی فوج اپنی کارروائیوں کو مزید بڑھائے گی اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
Iran vs US-Israel War: ایران کی سخت وارننگ، امریکہ یا اسرائیل کو خفیہ معلومات دینے یا مدد کرنے والوں کو دی جائے گی سزائے موت، دو افراد گرفتار
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی شہری دشمن ممالک کو تصاویر، ویڈیوز یا کسی بھی قسم کی حساس معلومات فراہم کرے گا، اسے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر کی جانب سے جاری کیا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
Donald Trump Statement On Hormuz Strait: ”جنہیں ایندھن نہیں مل رہا ہے وہ ہم سے خریدیں… یا آبنائے ہرمز میں گھس کر خود لے لیں“، مشرق وسطیٰ بحران کے بیچ ٹرمپ کا عجیب و غریب بیان
ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جہاں انہوں نے عالمی توانائی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس وافر مقدار میں ایندھن موجود ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو ممالک ہرمز کی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں دو راستے اختیار کرنے چاہیے۔ پہلا یہ کہ وہ امریکہ سے خریداری کریں اور دوسرا یہ کہ خود آبنائے ہرمز میں جا کر ایندھن حاصل کریں۔





