US-Israel vs Iran Conflict: ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا دعویٰ، امریکی وزیر دفاع نے کہا- ’’میں نئی حکومت سے کہہ رہا ہوں کہ وہ معاہدہ کرے ورنہ مزید بڑے حملے ہوں گے‘‘
امریکی وزیر دفاع نے یہ بیان پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے تیار ہیں اور ایران کو پہلے ہی امریکی شرائط سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امریکی فوج اپنی کارروائیوں کو مزید بڑھائے گی اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
Iran vs US-Israel War: ایران کی سخت وارننگ، امریکہ یا اسرائیل کو خفیہ معلومات دینے یا مدد کرنے والوں کو دی جائے گی سزائے موت، دو افراد گرفتار
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی شہری دشمن ممالک کو تصاویر، ویڈیوز یا کسی بھی قسم کی حساس معلومات فراہم کرے گا، اسے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر کی جانب سے جاری کیا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
Donald Trump Statement On Hormuz Strait: ”جنہیں ایندھن نہیں مل رہا ہے وہ ہم سے خریدیں… یا آبنائے ہرمز میں گھس کر خود لے لیں“، مشرق وسطیٰ بحران کے بیچ ٹرمپ کا عجیب و غریب بیان
ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جہاں انہوں نے عالمی توانائی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس وافر مقدار میں ایندھن موجود ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو ممالک ہرمز کی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں دو راستے اختیار کرنے چاہیے۔ پہلا یہ کہ وہ امریکہ سے خریداری کریں اور دوسرا یہ کہ خود آبنائے ہرمز میں جا کر ایندھن حاصل کریں۔
Spain On Iran War: ڈونلڈ ٹرمپ کو نیا جھٹکا! اسپین نے ایران جنگ کے لیے ایئر اسپیس اور فوجی اڈے دینے سے کیا صاف انکار، اب کیا کرے گا امریکہ؟
اسپین کی وزیر دفاع نے کہا، "ہم ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کے لیے اپنے ایئر اسپیس اور فوجی اڈوں کا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔" اس موقف کو اسپین کے وزیر معیشت کارلوس کیورو نے بھی حمایت دی اور کہا کہ اسپین ایسے جنگی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو غیر ضروری اور بغیر وجہ کے شروع کیا جائے۔
Trump theatens Iran open Strait of Hormuz: ”ہومرزکوکھولو اورجلد سمجھوتہ کرو، نہیں توتباہ کردوں گا“، ایران کو ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی دھمکی
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران کوگھٹنے ٹیکنے مجبورکرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں، لیکن ایران پوری مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کررہا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف معاہدے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران پردباؤ ڈالنے کی بھی پوری کوشش کررہے ہیں اوراس دوران انہوں نے دھمکیاں بھی دی ہیں۔
Trump amid claims of regime change: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ، ایران نے دباؤ مسترد کرتے ہوئے زمینی حملے کی دی وارننگ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی ’’رجیم چینج‘‘ کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ’’نیا گروپ‘‘ سامنے آ رہا ہے، جو بقول ان کے ’’بہت معقول رویہ‘‘ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں اور خطے میں بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز تعینات ہیں۔
Iran US Israel War: یوایس-یورپ میں ایران جنگ کے خلاف 90 لاکھ لوگوں کا احتجاج، ٹرمپ کی پالیسی پر ناراضگی، نیو یارک اور یورپی شہروں میں ‘نو کنگز’ پروٹیسٹ
وائٹ ہاؤس نے اس احتجاج کو ‘لیفٹ فنڈنگ نیٹ ورک’ کا حصہ قرار دیا، جب کہ ریپبلکن لیڈروں نے اسے ‘ہیٹ امریکہ’ ریلی کہا۔ اس دوران امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل سے نیشنل مال تک مارچ ہوا اور مظاہرین نے ‘نو کنگز’ کے نعرے لگائے
US Deploys 3,500 Marines to the Middle East: ایران کے ساتھ بڑھتے تنازع کے درمیان امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں 3,500 میرین فوجی کیے تعینات
وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کے روز پہلے رپورٹ دی تھی کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں 10,000 تک اضافی زمینی فوجیوں کو تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے، تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس سفارت کاری کے علاوہ فوجی آپشن بھی موجود ہوں۔ ان نئے فوجیوں میں پیدل فوج اور بکتر بند گاڑیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
Musk Was Not Involved in Talks Between Trump and Modi: ’’ٹرمپ اور مودی کی گفتگو میں شامل نہیں تھے ایلون مسک…‘‘، بھارت کی وضاحت
ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائی کے بعد ٹرمپ اور مودی کے درمیان یہ پہلی بات چیت تھی۔ وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں دونوں لیڈران نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور امن برقرار رکھنے پر زور دیا۔
PM Modi-Trump: مودی-ٹرمپ ٹیلی فونک گفتگو سے ایران بحران میں کمی کی امید؟ ایلون مسک کی شمولیت نے بڑھایا سسپنس
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں لیڈروں نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو انتہائی اہم قرار دیا۔ بھارت کے لیے یہ راستہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی راستے سے درآمد ہوتی ہے۔نریندر مودی نے اس گفتگو کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں امن قائم رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے حق میں ہے۔





