Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

پاکستان کے وزیردفاع کے ذریعہ اسرائیل کو’کینسر‘ قرار دینے کے بیان پر اسرائیل نے شدید اعتراض کیا ہے اوراس کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بیان نے ایران اورامریکہ کے درمیان ثالث کے طور پرپاکستان کے کردارپرسوالات اٹھائے ہیں کیونکہ اسرائیل اسے یہود مخالف اور اپنے وجود پرحملہ قراردے رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

ریپبلکن کانگریس کے لیڈروں نے اس وقت  نیٹو کی اہمیت پر زور دیا۔ سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین راجر ویکر اور ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے کہا، "ایک مضبوط نیٹو امریکہ کے مفاد میں ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل آف ایران نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ سیزفائر کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ کونسل نے کہا کہ ایرانی افواج مکمل چوکس ہیں اور دشمن کی کسی بھی غلطی پر پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس کے باعث عالمی بازاروں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی۔ بھارت میں سینسیکس اور نفٹی میں تیزی سے گراوٹ آئی اور چند ہی سیکنڈ میں سرمایہ کاروں کے تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ فوجی آپشن اب بھی کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو بری طرح ہلا سکتے ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان سے ممکنہ امریکی کارروائی کے بڑے پیمانے کا اشارہ ملتا ہے۔

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان صدر ٹرمپ نے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اکثر سخت، متنازع اور غیر شائستہ ہوتے ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے Truth Social پر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے جو پوسٹ لکھی، اس پر کئی لوگوں نے تنقید کی ہے۔ اس پوسٹ کے مذہبی انداز پر امریکہ کی ایک اسلامی تنظیم نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔