نئی دہلی: ایران سے جڑے جیوپولیٹیکل تناؤ کے باعث جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کا براہ راست اثر امریکی ایئرلائنز پر پڑ رہا ہے۔ بڑھتی لاگت کے سبب کئی پروازیں منسوخ کی جا رہی ہیں، جبثکہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے مسافروں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔اس معاملے پر امریکہ میں شدید بحث چھڑ گئی ہے، جہاں حکومت کی توانائی پالیسی اور متبادل ایندھن کے منصوبوں میں کمی کو لے کر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران سینیٹر ماریا کینٹ نے توانائی کے وزیر کرس رائٹ سے سخت سوالات کیے۔کینٹویل نے نشاندہی کی کہ سیائل ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق مہنگے ایندھن کے باعث پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الاسکا ایئر لائنز کو اس سہ ماہی میں ایندھن پر سینکڑوں ملین ڈالر اضافی خرچ کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث ایئرلائن پہلے ہی اپنے اسپرنگ شیڈول میں کمی کا اعلان کر چکی ہے۔
صنعتی اعداد و شمار کے مطابق جیٹ ایندھن کی قیمت گزشتہ سال کے آخر میں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تھی، جو حالیہ مہینوں میں بڑھ کر 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، اگرچہ بعد میں اس میں معمولی کمی آئی۔ کینٹویل نے اس صورتحال کے لیے حکومتی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پائیدار ہوابازی ایندھن (Sustainable Aviation Fuel) کے لیے دی جانے والی ٹیکس رعایتوں میں کمی پر تنقید کی۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن کے ذرائع کو فروغ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے ذرائع میں تنوع لانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب وزیر توانائی کرس رائٹ نے قیمتوں میں اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی موقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن یہ چار سال پہلے کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں۔ تاہم کینٹویل نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عوام اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں، خاص طور پر جب انہیں ایندھن کی مہنگائی کے باعث پروازوں کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رائٹ کا کہنا تھا کہ متبادل ایندھن ابھی مہنگا ہے اور اس کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بھی محدود ہے، جس کی وجہ سے اس کی فراہمی اور استعمال میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ جبکہ کینٹویل کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے حکومتی تعاون ناگزیر ہے، بصورت دیگر ہوابازی کے شعبے میں ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور سفر کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو ایئرلائن انڈسٹری کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کا بوجھ بالآخر مسافروں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

