امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پُرعزم اقتصادی اور تجارتی پالیسیوں کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا لگا ہے۔ امریکہ کی ’کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ‘ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے 10 فیصد عارضی عالمی ٹیرف (Global Tariff) کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت کا یہ 2-1 سے آیا فیصلہ چھوٹے کاروباریوں کے لیے بڑی جیت مانا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ سے تین ماہ قبل ملی شکست کے بعد، ٹرمپ کے لیے یہ دوسرا بڑا قانونی دھچکا ہے، جس نے ان کی تجارتی حکمت عملی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
فیصلے کی اہم باتیں
عدالت نے 10 فیصد عالمی ٹیرف کو 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے تحت غیر قانونی قرار دیا۔
جن کمپنیوں نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، انہیں وصول کی گئی رقم واپس کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دیگر درآمد کنندگان کے لیے یہ ٹیرف جولائی تک نافذ رہ سکتا ہے، جب تک مکمل جانچ مکمل نہیں ہو جاتی۔
ٹرمپ کا عالمی ٹیرف کیوں ہوا غیر قانونی؟
ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122 کا استعمال کرتے ہوئے تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا تھا۔ اس قانون کے تحت صدر کو 15 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی خصوصی اجازت صرف اسی صورت میں ملتی ہے، جب ملک کو ’بیلنس آف پیمنٹس‘ کا سنگین بحران درپیش ہو۔تین ججوں کی بنچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ٹرمپ حکومت یہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی کہ امریکہ کو ایسا کوئی شدید اقتصادی بحران لاحق تھا۔ قانونی معیار پورا نہ ہونے کے باعث عدالت نے اس بلینکٹ ٹیرف کو مسترد کر دیا۔
چھوٹے کاروباروں کو بڑی راحت
یہ فیصلہ ان چھوٹے کاروباری اداروں اور واشنگٹن ریاست کے لیے بڑی راحت بن کر سامنے آیا ہے، جنہوں نے 24 فروری سے نافذ ان محصولات کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے واضح حکم دیا کہ متاثرہ فریقوں سے اب یہ ٹیرف وصول نہیں کیا جائے گا اور پہلے سے وصول کی گئی رقم واپس کی جائے گی۔تاہم، یہ پابندی فی الحال صرف مقدمہ دائر کرنے والے دو نجی درآمد کنندگان اور واشنگٹن ریاست تک محدود ہے۔ جب تک ٹرمپ انتظامیہ کی ممکنہ اپیل پر سماعت مکمل نہیں ہو جاتی، تب تک دیگر درآمد کنندگان کے لیے یہ ٹیرف نافذ رہ سکتا ہے۔
جن پنگ سے ملاقات سے پہلے ’ہوا ٹائٹ‘
یہ عدالتی فیصلہ سفارتی اعتبار سے بھی ٹرمپ کے لیے انتہائی نامناسب وقت پر آیا ہے۔ صرف ایک ہفتے بعد بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ٹرمپ کی اہم تجارتی بات چیت ہونے والی ہے۔ مذاکرات کی میز پر جانے سے پہلے اپنی ہی عدالتوں سے شکست کھانا ٹرمپ کی سودے بازی کی طاقت کو کمزور کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے فروری میں امریکی سپریم کورٹ بھی قومی ایمرجنسی قانون کے تحت نافذ ٹرمپ کے کئی بڑے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔
ٹرمپ نے ججوں کو ٹھہرایا ذمہ دار
مسلسل ملنے والے قانونی جھٹکوں سے برہم ڈونالڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کا الزام ’لیفٹ ونگ ججوں‘ پر ڈال دیا۔ واشنگٹن میں ایک رینوویشن پروجیکٹ کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا،’’اب مجھے عدالتی فیصلوں پر کوئی حیرانی نہیں ہوتی۔ ہمیں ایک فیصلہ ملتا ہے اور پھر ہم وہی کام کسی دوسرے طریقے سے کرنے لگ جاتے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


