Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

نیویارک میں قائم ایک انسانی حقوق تنظیم کے مطابق، بیتا ہمتی ایران کی ان پہلی خواتین مظاہرین میں شامل ہیں جنہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ دیگر رپورٹس کے مطابق کچھ خواتین کو ان کے کام کی جگہ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ بعض کو مظاہروں میں مبینہ شرکت کے باعث حراست میں لیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکہ اس وقت دوہری حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ ایک طرف فوجی حملوں کو روکا جا رہا ہے اور دوسری جانب مالیاتی و سمندری پابندیوں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب حالات بے حد کشیدہ ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی پر اختلاف، سمندری محاذ آرائی اور سفارتی تعطل جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی 90 فیصد سے زائد سمندری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہی تو اقتصادی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کرنسی پر دباؤ، مہنگائی میں اضافہ اور بینکاری بحران جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی اپیل پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے لیکن آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی، جبکہ امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان سے وابستہ افراد نے بتایا کہ جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ دونوں لیڈر اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے اور ممکنہ سیزفائر و مستقبل کی ڈیل پر بات چیت کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران نیوکلیئر ڈیل سے متعلق براک اوباما اور جو بائیڈن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ حکومت نے اربوں ڈالر نقد ایران بھیجے تھے اور یہ معاہدہ امریکہ کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ایرانی عملے نے انتباہ نظر انداز کیا، جس کے بعد امریکی بحری جہاز نے انجن روم کو نشانہ بنا کر جہاز کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی میرینز نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے

ایرانی حکام کے اس سخت موقف نے جاری جوہری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مطالبات یکطرفہ ہیں، جن کا مقصد ایران کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔

یورپی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ اتحاد مزید مضبوط ہو سکے۔حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکہ کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔