Bharat Express DD Free Dish

Firing Near White House: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، سیکرٹ سروس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک

حکام نے ابھی تک حملہ آور کی شناخت یا حملے کے مقصد کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔ زخمی راہگیر کی حالت کے بارے میں بھی سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے قریب ہفتہ کی شام فائرنگ کرنے والے ایک حملہ آور کو سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی میں ہلاک کر دیا۔ اس واقعے میں ایک راہگیر بھی زخمی ہوا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

کب اور کہاں پیش آیا واقعہ؟

یہ واقعہ ہفتہ کی شام تقریباً 6 بجے 17ویں اسٹریٹ اور پینسلوینیا ایونیو این ڈبلیو کے قریب پیش آیا، جو وائٹ ہاؤس اور آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ کے نزدیک واقع علاقہ ہے۔ سیکرٹ سروس کے چیف آف کمیونیکیشنز انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں کہا کہ ایک شخص نے اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور اچانک فائرنگ شروع کر دی۔

سیکرٹ سروس کی فوری کارروائی

سیکرٹ سروس کے مطابق اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی، جس میں حملہ آور شدید زخمی ہو گیا۔ اسے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ فائرنگ کے دوران ایک عام شہری بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ حالانکہ، سیکرٹ سروس کے کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

حملہ آور کی شناخت تاحال ظاہر نہیں

حکام نے ابھی تک حملہ آور کی شناخت یا حملے کے مقصد کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔ زخمی راہگیر کی حالت کے بارے میں بھی سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔ سیکرٹ سروس نے واضح کیا کہ واقعے کے وقت صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے، لیکن اس واقعے سے ان کی سکیورٹی یا حکومتی امور متاثر نہیں ہوئے۔

وائٹ ہاؤس میں ہنگامی لاک ڈاؤن

فائرنگ کے بعد کچھ وقت کے لیے پورے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ مسلح سیکرٹ سروس اہلکار نارتھ لان میں تعینات ہو گئے، جبکہ سکیورٹی ٹیموں نے صحافیوں اور عملے کو تیزی سے پریس بریفنگ روم منتقل کیا۔ سی این این کے مطابق موقع پر موجود صحافیوں کو اپنی جگہ پر رہنے کی ہدایت دی گئی۔ ایجنٹس مسلسل ’نیچے جھک جاؤ‘ اور ’فائرنگ ہو رہی ہے‘ جیسی وارننگ دیتے رہے۔

حالیہ مہینوں میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ

یہ واقعہ اس فائرنگ کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد پیش آیا ہے جس نے واشنگٹن میں ہونے والے وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کو بھی متاثر کیا تھا۔ اس تقریب میں صحافیوں، قانون سازوں اور انتظامیہ کے کئی سینئر عہدیداروں نے شرکت کی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read