واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بیجنگ ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو
وائٹ ہاؤس میں زیرِ تعمیر نئے بال روم کے مقام کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان شی جن پنگ نے انہیں براہِ راست یہ یقین دہانی کرائی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’صدر شی نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے۔ یہ ایک اچھا وعدہ ہے اور میں ان کی بات پر بھروسہ کرتا ہوں۔‘‘
ٹرمپ اور شی کے تعلقات پر گفتگو
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، ’’ہم نے چین میں بہت اچھا وقت گزارا۔ صدر شی اور میں نے ایک ساتھ شاندار وقت گزارا۔‘‘
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار خیال
اس دوران ٹرمپ نے ایران کی عسکری طاقت اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ خاص طور پر انہوں نے آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک سے متعلق معاملات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین بھی خطے میں امن چاہتا ہے کیونکہ اس کی تیل کی بڑی ضروریات مشرقِ وسطیٰ پر منحصر ہیں۔
ایران پر سمندری راستوں کے استعمال کا الزام
ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران کئی دہائیوں سے دباؤ ڈالنے کے لیے سمندری راستوں کا استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایران نے 47 برس تک ان سمندری راستوں کو فوجی ہتھیار کی طرح استعمال کیا۔ یہ صرف ایران کا راستہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔‘‘
خلیجی ممالک امریکہ کے ساتھ
امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت جیسے ممالک ایران سے متعلق معاملات پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر مذاکرات کر رہے ہیں، اسرائیل بھی اچھا پارٹنر رہا ہے۔
ایران کی فوجی طاقت سے متعلق دعویٰ
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہمارے اندازے کے مطابق ایران کی 82 فیصد میزائل صلاحیت ختم ہو چکی ہے، جبکہ اس کی بحریہ اور فضائیہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔‘‘ حالانکہ، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے پاس اب بھی محدود جوابی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کی دوبارہ فوجی تیاری کی طاقت بہت کمزور ہو چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


