Bharat Express DD Free Dish

Xi Jinping

بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی یقینی طور پر اتنی طاقتور ہے کہ ایسے واقعات کو جنم دے سکتی ہے، جن میں ایک ارب افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بد نیت لوگوں کے ہاتھوں جدید اے آئی ٹولز کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرے جتنا طاقتور ہتھیار اس سے پہلے کبھی موجود نہیں رہا۔

چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ان کا استقبال کیا، جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں خصوصی اسٹیٹ ڈنر بھی ہوگا

وزیر اعظم مودی، پوتن اور شی جن پنگ کے ساتھ تصویر میں نظر آنے والے شخص کی شناخت سامنے آئی، بھارتی خارجہ سروس کے افسر سدھارتھ بابو ہیں اہم سفارتی ٹیم کا حصہ

پی ایم مودی نے کہا کہ امید ہے کہ سربراہی اجلاس میں منظور کیا گیا ’نئی دہلی اعلامیہ‘ ہماری مشترکہ سوچ اور مستقبل کے تعاون کے لیے ایک واضح سمت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام نتائج کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جانے والے اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا، جن کا اثر زمینی سطح پر بھی نظر آئے۔انہوں نے کہا، ہم مل کر یہ یقینی بنائیں گے کہ ہمارا فریم ورک صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ حقیقی زندگی میں اس کا ٹھوس اثر دکھائی دے۔‘‘

شی جن پنگ کا ہندوستان دورہ کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد ہوا۔ ان میں بیجنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان خصوصی نمائندہ سطح کی بات چیت بھی شامل ہے۔ اروناچل پردیش کے علاقے میں چین کی جارحانہ فوجی سرگرمیوں کو لے کر خدشات اب بھی برقرار ہیں۔

عشائیے کے دوران جب پیانو پر دھن بج رہی تھی تو ملائیشیا کے وزیر اعظم نے 1965 کی فلم ’تین دیویاں‘ کا گانا ’خواب ہو تم یا کوئی حقیقت‘ گانا شروع کر دیا۔ کشور کمار کے اس مشہور گانے کی دھن پورے ہال میں گونجنے لگی۔ انور ابراہیم کی شاندار پیشکش نے پوری شام کو خوشگوار بنا دیا۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران منعقدہ عشائیے سے متعلق معلومات شیئر کیں۔

برکس سربراہی اجلاس 2026 میں 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے لیڈروں کے علاوہ کئی دیگر بین الاقوامی تنظیمیں بھی شرکت کر رہی ہیں۔شی جن پنگ ہفتہ کی دوپہر نئی دہلی پہنچے تھے اور انہوں نے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کی۔

برکس سربراہی اجلاس 2026 کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی ایک ساتھ سامنے آنے والی تصویر نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ تینوں رہنماؤں کی اس تصویر کو سفارتی اور سیاسی اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

شی جن پنگ کے دورۂ بھارت کا سب سے اہم مرحلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی دو طرفہ ملاقات ہے، جو آج شام متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر مودی اور شی کی یہ ملاقات انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے لیڈران کے درمیان ہونے والی بات چیت پر نہ صرف بھارت اور چین بلکہ پوری دنیا کی نظریں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کا اثر عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑتا ہے۔

شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان اور چین 2020 کی گلوان کی خونریز جھڑپوں کے بعد دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی مسلسل ترقی اور پیش رفت کے لیے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنا ایک اہم شرط ہے۔