Bharat Express DD Free Dish

Xi Jinping

برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہوگا۔ اجلاس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور غیر ملکی مہمانوں کے قیام اور آمد کا شیڈول بھی طے کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر بھارت آنے والے شی جن پنگ کا یہ تقریباً 7 سال بعد پہلا بھارت دورہ ہوگا۔ ان کے دورے کو بھارت اور چین کے درمیان تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دورانِ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔

بھارت اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس بار اجلاس کا موضوع ’’Building for Resilience, Innovation, Cooperation and Sustainability‘‘ رکھا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ان کی طویل ملاقات کا بنیادی مقصد ستمبر میں چینی صدر شی جن پنگ کے متوقع دورۂ واشنگٹن کی تیاری تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑے اسٹریٹجک اختلافات کے باوجود امریکہ اور چین کے درمیان مسلسل مکالمہ جاری رہنا چاہیے۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کا پاکستان کی مخلصانہ امن کوششوں کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے چین کی جانب سے پیش کیے گئے دور اندیش چار نکاتی منصوبے کو بھی سراہا۔

ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور چین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری غیر معمولی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اہم سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، صدر شی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے۔ یہ ایک اچھا وعدہ ہے اور میں ان کی بات پر بھروسہ کرتا ہوں۔

بیجنگ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات خاصی بحث میں رہی۔ شی جن پنگ نے امریکہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے زوال کا ذکر کیا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ جب بدھ کے روز چین کے لئے نکلے، تب انہوں نے ایران سے متعلق بیجنگ میں کوئی بات نہیں کرنے کا اعلان کیا، لیکن جیسے ہی بیجنگ پہنچے، انہوں نے شی جنپنگ سے مڈل ایسٹ میں امن سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ کو پتہ ہے کہ شی جنپنگ کے بغیرایران جنگ ختم نہیں ہوسکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت کئی علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے اے پیک اکنامک لیڈرز اجلاس اور جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا۔