نئی دہلی: نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کا آغاز ہو چکا ہے۔ دنیا کے کئی اہم لیڈر دارالحکومت پہنچ چکے ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے بعد چین کے صدر شی جن پنگ بھی ہفتے کو بھارت پہنچ گئے۔ وہ دوپہر تقریباً 12 بجے پالم ایئرپورٹ پر اترے، جہاں مرکزی وزیر جتن پرساد نے ان کا استقبال کیا۔
شی جن پنگ کے دورۂ بھارت کا سب سے اہم مرحلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی دو طرفہ ملاقات ہے، جو آج شام متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر مودی اور شی کی یہ ملاقات انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے لیڈران کے درمیان ہونے والی بات چیت پر نہ صرف بھارت اور چین بلکہ پوری دنیا کی نظریں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کا اثر عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑتا ہے۔
چین نے تعلقات بہتر بنانے کا دیا اشارہ
بھارت آمد سے قبل چین نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی سمت میں لے جانے کا اشارہ دیا ہے۔ بھارت میں چین کے سفیر شو فیہونگ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ بیجنگ بھارت کے ساتھ مل کر اختلافات دور کرنے اور تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے لیڈر اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کریں گے اور باہمی تعلقات کو طویل مدتی نقطۂ نظر کے ساتھ سنبھالیں گے۔ چینی سفیر کے مطابق کازان اور تیانجن میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد یہ مسلسل تیسرا سال ہوگا جب وزیر اعظم مودی اور صدر شی جن پنگ آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کریں گے۔ اسے بھارت-چین تعلقات میں نئی شروعات کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سات سال بعد شی جن پنگ کا دورۂ بھارت
شی جن پنگ تقریباً سات سال بعد بھارت پہنچے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر وہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آئے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے اکتوبر 2019 میں بھارت کا دورہ کیا تھا، جب تمل ناڈو کے ماملاپورم میں دونوں لیڈروں کے درمیان غیر رسمی سربراہی ملاقات ہوئی تھی۔
2019 کی ملاقات کے چند ماہ بعد 2020 میں گلوان وادی میں بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی۔ اس واقعے میں بھارت کے 20 فوجی شہید ہوئے تھے، جبکہ چین نے بھی اپنے فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ گلوان واقعے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔ بھارت نے چینی سرمایہ کاری اور متعدد چینی ایپس پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ تجارت کے معاملے میں بھی سختی اختیار کی۔
سرحد، تجارت اور ویزا اہم ایجنڈے میں شامل
مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سرحدی تنازع، تجارتی پابندیوں اور ویزا سے متعلق مسائل پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔ بھارت کا مؤقف رہا ہے کہ سرحد پر امن اور استحکام ہی دونوں ملکوں کے مجموعی تعلقات کی سمت طے کرے گا، جبکہ چین چاہتا ہے کہ سرحدی تنازع کو دیگر شعبوں میں تعاون سے الگ رکھا جائے۔ شی جن پنگ کا دورۂ بھارت ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اروناچل پردیش کے تکسنگ علاقے میں بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس کے علاوہ چین کی جانب سے برہم پتر ندی پر مجوزہ 137 ارب ڈالر کی لاگت والے ڈیم کے منصوبے پر بھی بھارت کو تشویش ہے۔ نیپال میں حالیہ گلیشیئر حادثے کے بعد بھارت نے اس منصوبے کے حوالے سے زیادہ شفافیت اور معلومات کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔
تعلقات معمول پر لانے کی کوشش
دونوں ممالک نے گزشتہ چند برسوں میں تعلقات معمول پر لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم کئی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ مودی اور شی جن پنگ کی آج ہونے والی ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کے اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ برکس سربراہی اجلاس کے دوران یہ ملاقات صرف بھارت اور چین کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کی سمت عالمی سیاسی اور اقتصادی منظرنامے پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



