Bharat Express DD Free Dish

India China Relation

وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں ایک دوسرے کے بنیادی خدشات کے تئیں حساسیت، باہمی احترام اور باہمی مفادات کو تعلقات کی بنیاد قرار دیا

شی جن پنگ کے دورۂ بھارت کا سب سے اہم مرحلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی دو طرفہ ملاقات ہے، جو آج شام متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر مودی اور شی کی یہ ملاقات انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے لیڈران کے درمیان ہونے والی بات چیت پر نہ صرف بھارت اور چین بلکہ پوری دنیا کی نظریں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کا اثر عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑتا ہے۔

سیٹلائٹ امیجری نے تبت میں چین کی نئی فضائی دفاعی تیاری کو بے نقاب کر دیا۔ تبت کے گار کاؤنٹی میں میزائل لانچر اور ریڈار پوسٹیں دیکھی گئی ہیں۔ بھارت کے نیوما ایئر فیلڈ پر دشمن نظریں جمائے کھڑا ہے۔

پانچ سال سے زائد عرصے کے بعد، ہندوستان اور چین کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

وادی گلوان کے واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات 1962 کی جنگ کے بعد بدترین حالت میں پہنچ گئے۔ تاہم، بعد میں سفارتی اور فوجی مذاکرات کے کئی دوروں کے ذریعے، فوجیوں نے پینگونگ جھیل، گلوان اور ہاٹ اسپرنگس جیسے کئی کشیدہ علاقوں سے انخلا کیا۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر اتوار کی شام بیجنگ پہنچے، جو پانچ سالوں میں ان کا پہلا چین کا دورہ ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کشیدگی کو کم کرنے اور 2020 میں وادی گلوان میں مہلک جھڑپوں کے بعد بگڑنے والے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

راجناتھ سنگھ نے لکھا، "چنگ ڈاؤ میں ایس سی او کے وزرائے دفاع کی میٹنگ کے دوران چین کے وزیر دفاع ایڈمرل ڈان جون سے بات ہوئی۔ ہم نے دو طرفہ تعلقات سے متعلق امور پر تعمیری اور بصیرت افروز خیالات کا تبادلہ کیا۔

رپورٹ مئی 2025 میں  بھارت پاک  فوجی تصادم  اور پہلگام حملے جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ "پاکستان علاقائی عدم استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے، لیکن...

وانگ یی نے واضح کیا کہ دیرپا جنگ بندی نہ صرف ہندوستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ توقعات پر بھی پورا اترتا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تعطل کا آغاز مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے ساتھ 2020 میں ہوا تھا، اور اس کا آغاز چینی فوجی کارروائیوں سے ہوا۔ اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان طویل تناؤ پیدا ہوا۔