Bharat Express DD Free Dish

Xi Jinping

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی تاریخی ملاقات کے دوران امریکی حکام سے بھی ملاقات کی۔  اس دوران صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین میں امریکی کمپنیوں کے لیے اور بھی بڑے مواقع ہوں گے۔

چین کی نیوزایجنسی کے مطابق، بیجنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال چین کے نائب صدرنے کیا۔ نائب صدرجھینگ کے ساتھ ہوائی اڈے پربیجنگ میں امریکی سفیرڈیوڈ پڈریو، امریکہ میں چین کے سفیرشی فینگ اور چین کے نائب وزیربرائے خارجہ امورما ژاؤسوبھی موجود رہے۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران سے خام تیل خریدنے کے معاملے پر کئی چینی ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد چین نے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں کو نہ ماننے کی ہدایت دی تھی۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ ان کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

امریکہ نے ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام سے منسلک 10 افراد اورکمپنیوں پرپابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان کمپنیوں میں چین، ہانگ کانگ، دبئی اوربیلاروس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کررہی تھیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو بچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ذمہ دار افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

ایک تصویر میں شی جن پنگ آنکھیں بند کیے مسکراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان کے سامنے کاغذ کا ایک پیپر پکڑے ہوئے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے چینی کابینہ کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’’بزدل‘‘ قرار دیا۔

امریکی صدر نے چین کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین تیزی سے نئے ہتھیار تیار کر رہا ہے اور وہ پانچ سال کے اندر روس اور امریکہ کے قریب جاسکتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور شی جن پِنگ تقریباً ہر چیز پر متفق ہو گئے ہیں، جن میں سویا بین کی تجارت اور فینٹینائل سے متعلق ٹیرف بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کے ہم کئی مسائل پر متفق ہیں۔ بڑی مقدار میں سویا بین اور دیگر زرعی مصنوعات کی خریداری فوری طور پر شروع ہونے جا رہی ہے۔

چینی صدر نے مزید کہا کہ "چین اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کی کامیابی اور خوشحالی میں مدد دے سکتے ہیں۔ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ دونوں ممالک کو شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے۔

آج دنیا کی 70 فیصد Rare Earth Minerals کی کان کنی چین میں کی جاتی ہے اور 90 فیصد کو وہاں پروسیس کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی ان معدنیات کے لیے چین پر انحصار کرتے ہیں۔