Bharat Express DD Free Dish

Xi Jinping

پی ایم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات کے دوران سرحدی علاقوں میں امن و امان کی بحالی، عوامی روابط کے فروغ، ویزہ سہولت اور کیلاش مانسرور یاترا کی بحالی جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے ہندوستان سمیت کئی ممالک پر تجارتی پابندیاں اور محصولات عائد کر دی ہیں۔

’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘

اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔

اس اہم ملاقات میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر (NSA) اجیت ڈووال بھی شریک تھے، جس سے اس بات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے کہ سیکیورٹی اور اسٹریٹیجک امور بھی ایجنڈے میں شامل تھے۔

یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے (بھارتی وقت کے مطابق صبح 9:30 بجے) طے ہے اور اس کے لیے 40 منٹ کا وقت مخصوص کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب بھارت اور چین کے تعلقات میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے۔

31 اگست کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی میٹنگ کے دوران پی ایم نریندر مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات طے ہے۔ یہ ملاقات مودی کی سات سال بعد چین آمد پر ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے وہ 2019 میں چین گئے تھے۔

یہ تقریب تبت خود مختار خطے کے قیام کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی۔ پوٹالہ پیلس، جو کبھی دلا ئی لاماؤں کی سردیوں کی رہائش گاہ تھا، اب ایک سیاحتی مقام ہے، لیکن اس کی روحانی اہمیت تبت کے لوگوں کے لیے ناقابل انکار ہے۔

اگرچہ امریکہ تائیوان کا سب سے بڑا بین الاقوامی حامی اور ہتھیاروں کا سب سے بڑا سپلائر ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان کوئی رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ چین نے ہمیشہ امریکہ کے اس کردار پر اعتراض کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت قیادت کی سطح پر مکالمے کو انتہائی اہم سمجھتا ہے اور اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔