وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے اتوار کے روز تیانجن میں ہونے والی دو طرفہ ملاقات کے دوران عالمی تجارتی استحکام میں بھارت اور چین کی معیشتوں کے کردار کو تسلیم کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی اقتصادی بے یقینی کے ماحول میں دنیا کی دو بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو تعاون اور توازن کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو وسعت دینی چاہیے۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے ہندوستان سمیت کئی ممالک پر تجارتی پابندیاں اور محصولات عائد کر دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس اپریل میں 60 سے زائد ممالک پر محصولات کا اعلان کیا تھا، جن میں بھارت اور چین بھی شامل ہیں۔ بھارت پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا گیا، جب کہ چین پر 30 فیصد محصول نافذ کر کے 90 دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔ امریکی عدالت نے ان اقدامات کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا ہے۔ پی ایم مودی اور چینی صدر شی نے باہمی تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے، تجارتی خسارہ کم کرنے اور سیاسی و اسٹریٹجک بنیادوں پر معاشی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انھوں نے عوامی روابط بڑھانے کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی، ویزہ سہولت میں آسانی اور کیلاش مانسرور یاترا کی مکمل بحالی کا بھی خیر مقدم کیا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک نے نئی ایئر سروسز معاہدے کو حتمی شکل دینے اور سیاحتی، کاروباری و صحافتی ویزوں کو آسان بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بیجنگ میں چینی نائب صدر سے ملاقات میں ان فیصلوں کو سراہا۔ مزید برآں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور چین دونوں اسٹریٹجک خودمختاری کے حامی ہیں اور ان کے تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی، منصفانہ عالمی تجارت اور کثیرالملکی تعاون جیسے عالمی مسائل پر باہمی ہم آہنگی اور تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



