Bharat Express DD Free Dish

PM Modi in bilateral with Xi Jinping: بھارت اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور حساسیت کی بنیاد پر آگے بڑھانے کے پابند ہیں: وزیراعظم مودی

اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔

تیانجن [چین] — وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات میں کہا کہ بھارت اور چین اپنے تعلقات کو باہمی اعتماد، احترام اور حساسیت کی بنیاد پر آگے بڑھانے کے پابند ہیں۔ وزیراعظم مودی نے سرحد پر فوجی انخلا کے بعد قائم ہونے والے امن و استحکام اور مختلف شعبوں میں پیش رفت کی تعریف کی۔ انہوں نے کیلاش مانسروور یاترا کی بحالی اور دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست پروازوں کے آغاز کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے درمیان بارڈر مینجمنٹ پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا، ’’گزشتہ سال کازان میں ہماری بہت نتیجہ خیز بات چیت ہوئی تھی جس نے ہمارے تعلقات کو مثبت سمت دی۔ سرحد پر انخلا کے بعد امن و استحکام کا ماحول قائم ہوا ہے۔ کیلاش مانسروور یاترا دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور براہِ راست پروازیں بھی بحال ہو رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے 2.8 ارب عوام کے مفادات ہمارے باہمی تعاون سے جڑے ہیں، جو پوری انسانیت کی فلاح کا راستہ ہموار کرے گا۔‘‘

ایس سی او کی کامیاب صدارت پر مبارکباد

وزیراعظم نے شی جن پنگ کا پرتپاک استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کامیاب صدارت پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا، ’’میں آپ کو ایس سی او کی کامیاب صدارت پر مبارکباد دیتا ہوں۔ چین کے دورے کی دعوت اور آج کی ملاقات کے لیے شکریہ۔‘‘

تجارت اور سفری سہولتوں میں پیش رفت

یہ مودی کا سات سال بعد چین کا پہلا دورہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں بھارت اور چین نے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں اتراکھنڈ کے لپولیکھ پاس، ہماچل پردیش کے شپکی لا پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس سے تجارت کی بحالی شامل ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے 18 اور 19 اگست کے دورے میں دونوں ممالک نے جلد از جلد براہ راست پروازوں کی بحالی اور ایئر سروسز معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ سیاحت، کاروبار، میڈیا اور دیگر شعبوں کے لیے ویزا سہولت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

کیلاش مانسروور یاترا کی اہمیت اور بحالی

جولائی میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بیجنگ میں چینی نائب صدر ہان ژینگ سے ملاقات میں کیلاش مانسروور یاترا کی بحالی پر عوامی پذیرائی کا ذکر کیا۔ مذہبی و ثقافتی اہمیت، قدرتی حسن اور ماحولیاتی کشش کی وجہ سے یہ یاترا ہر سال ہزاروں افراد کرتے ہیں، جو ہندو، جین اور بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے مقدس سمجھی جاتی ہے۔ بھارت حکومت یہ یاترا ہر سال جون سے ستمبر کے دوران اتراکھنڈ کے لپولیکھ پاس (1981 سے) اور سکم کے ناتھو لا پاس (2015 سے) کے ذریعے کراتی ہے۔ کووڈ-19 کے بعد 2020 سے یہ یاترا بند تھی، جس کی بحالی کا معاملہ بھارت نے سفارتی سطح پر اٹھایا تھا۔

ایس سی او اجلاس اور عالمی سیاست میں اہمیت

آج شام تیانجن کے می جیانگ کنونشن و ایگزیبیشن سینٹر میں ایس سی او سربراہی اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں رہنما خیرمقدمی تقریب، فوٹو سیشن، استقبالیہ اور کنسرٹ میں شرکت کریں گے۔ ایس سی او میں بھارت سمیت بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں، جبکہ کئی مبصر اور مکالمہ شراکت دار بھی ہیں۔ بھارت 2005 سے مبصر اور 2017 سے رکن ہے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read