Bharat Express DD Free Dish

bilateral talks

وزیراعظم مودی پیر کی دوپہر اپنے تین ملکی سرکاری دورے کے پہلے مرحلے میں جکارتہ پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یہ ان کا انڈونیشیا کا چوتھا دورہ ہے، تاہم جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا مکمل دوطرفہ سرکاری دورہ ہے۔ دونوں رہنما 2018 میں قائم ہونے والی اس شراکت داری کے تحت اب تک ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیں گے اور مستقبل کی ترجیحات طے کریں گے۔

سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔

مالی شمولیت اور ڈیجیٹل ترقی پر تفصیلی گفتگو، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب سے مالیاتی خدمات زیادہ آسان اور کم خرچ ہوئی ہیں، بھارت اپنا تجربہ دنیا کے شراکت دار ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

بھارت اور امریکہ نے دہشت گردی، سرحدی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ اور مجرموں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ دفاعی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی خریداری کے مختلف معاہدوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید فروغ دیا ہے۔

جی-7 رہنماؤں نے عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور سرحد پار منظم جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی تیز کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اعلامیے میں سمندری سلامتی مضبوط بنانے، مجرمانہ مالیاتی نیٹ ورک توڑنے اور سرکاری و نجی اداروں میں جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کا اعلان کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور عالمی توانائی و غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اور لچکدار سپلائی چین نہایت اہم ہے۔ ملاقات میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور میٹالرجیکل کوئلے سے متعلق تجارتی انتظامات سمیت اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کو مزید آگے بڑھانے اور دوطرفہ تعلقات کو نئی توانائی فراہم کرنے کا موقع ہے۔ یہ دورہ گزشتہ برس دروپدی مرمو کے سلوواکیہ دورے اور رواں سال فروری میں صدر پیٹر پیلیگرینی کے بھارت کے دورے کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کویت میں مقیم بڑی بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے امیرِ کویت کی ذاتی توجہ اور کوششوں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پی ایم او کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون ضروری ہیں۔

بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میانمار کا ایک قابل اعتماد ہمسایہ اور مشکل حالات میں مدد فراہم کرنے والا شراکت دار رہا ہے اور آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

دورے کے دوران نریندر مودی ناروے کے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما ناروے-انڈیا بزنس اینڈ ریسرچ سمٹ میں بھارتی اور ناروے کے صنعت کاروں اور کاروباری نمائندوں سے بھی خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ ناروے کے بادشاہ بھی وزیر اعظم مودی سے خصوصی ملاقات کریں گے۔