Bharat Express DD Free Dish

bilateral talks

بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میانمار کا ایک قابل اعتماد ہمسایہ اور مشکل حالات میں مدد فراہم کرنے والا شراکت دار رہا ہے اور آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

دورے کے دوران نریندر مودی ناروے کے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما ناروے-انڈیا بزنس اینڈ ریسرچ سمٹ میں بھارتی اور ناروے کے صنعت کاروں اور کاروباری نمائندوں سے بھی خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ ناروے کے بادشاہ بھی وزیر اعظم مودی سے خصوصی ملاقات کریں گے۔

ہندوستان اور ویتنام اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے 10 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ ہندوستان اور ویتنام کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی روابط پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور اس دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور نئے شعبوں میں تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔

چانسلر اسٹوکر اس دورے پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں معیشت، توانائی اور سیاحت کے وفاقی وزیر سمیت سینئر عہدیداران اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔  بھارت اور آسٹریا کے تعلقات دوستانہ اور کثیر جہتی نوعیت کے حامل ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔

یہ دورہ وزیر اعظم مودی کے 2024 کے دورۂ آسٹریا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے سے نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت ملے گی۔

وفد نے ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے کو جنگ کے پیش نظر انسانی مدد کے لیے نوگانواں سادات کے افراد کی طرف سے رقم ہدیہ کی۔ وفد نے ایرانی رہبراعلیٰ کو شہید کیے جانے کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کی مذمت کی۔

عالمی سلامتی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر ایسٹونیا نے روس کی یوکرین کے خلاف جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہے، اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے جنگ روس کے لیے مہنگی ثابت ہو۔

وزارت خارجہ نے سیشلز کو بھارت کا ایک اہم سمندری ہمسایہ اور بھارت کے وژن مہاساگر میں کلیدی شراکت دار قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت گلوبل ساؤتھ کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور سیشلز اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔

اقتصادی تعاون، دفاع، سلامتی، صاف توانائی، زراعت، مینوفیکچرنگ اور اسکل ڈیولپمنٹ سمیت کئی شعبوں میں شراکت داری مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو۔ وزیر اعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان ہونے والی یہ اہم ملاقات نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے اقتصادی، دفاعی اور سماجی شعبوں میں نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

گزشتہ 80 برسوں میں کسی شامی صدر کا امریکہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دہائی قبل احمدالشرع کے سر پر امریکہ نے 10 ملین ڈالر انعام مقرر کیا تھا اور وہ عراق جنگ کے دوران امریکی فوج کی قید میں بھی رہ چکے ہیں۔