India-Myanmar Bilateral Talks: ’بحران کے وقت بھارت ہمیشہ ساتھ کھڑا رہا‘، وزیر اعظم مودی کی میانمار کے صدر کو یقین دہانی، امن و ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کا عزم
بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میانمار کا ایک قابل اعتماد ہمسایہ اور مشکل حالات میں مدد فراہم کرنے والا شراکت دار رہا ہے اور آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
PM Modi to visit Norway: ناروے میں نورڈک-انڈیا سمٹ میں شریک ہوں گے وزیراعظم مودی، تجارت، گرین ٹرانزیشن اور عالمی تعاون پر تبادلۂ خیال متوقع
دورے کے دوران نریندر مودی ناروے کے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما ناروے-انڈیا بزنس اینڈ ریسرچ سمٹ میں بھارتی اور ناروے کے صنعت کاروں اور کاروباری نمائندوں سے بھی خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ ناروے کے بادشاہ بھی وزیر اعظم مودی سے خصوصی ملاقات کریں گے۔
Vietnam President to visit India: ہندوستان–ویتنام تعلقات میں پیش رفت، وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر صدر تولام کا دورۂ ہند
ہندوستان اور ویتنام اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے 10 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ ہندوستان اور ویتنام کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی روابط پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور اس دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور نئے شعبوں میں تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔
PM Modi holds bilateral talks: وزیراعظم نریندر مودی اور آسٹریا کے چانسلر کے درمیان اہم دوطرفہ مذاکرات، تجارت، ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو
چانسلر اسٹوکر اس دورے پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں معیشت، توانائی اور سیاحت کے وفاقی وزیر سمیت سینئر عہدیداران اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ بھارت اور آسٹریا کے تعلقات دوستانہ اور کثیر جہتی نوعیت کے حامل ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔
PM Modi meets Austrian Chancellor: وزیراعظم نریندر مودی کی آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹوکر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور
یہ دورہ وزیر اعظم مودی کے 2024 کے دورۂ آسٹریا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے سے نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت ملے گی۔
Delegation meets: نوگانواں سادات کے وفد کی ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے سے ملاقات، اسرائیل-امریکہ جارحیت کی سخت مذمت
وفد نے ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے کو جنگ کے پیش نظر انسانی مدد کے لیے نوگانواں سادات کے افراد کی طرف سے رقم ہدیہ کی۔ وفد نے ایرانی رہبراعلیٰ کو شہید کیے جانے کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کی مذمت کی۔
PM Modi meets Estonian President: وزیراعظم مودی کی ایسٹونیا کے صدر سے ملاقات، انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے موقع پر اعلیٰ سطحی بات چیت
عالمی سلامتی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر ایسٹونیا نے روس کی یوکرین کے خلاف جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہے، اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے جنگ روس کے لیے مہنگی ثابت ہو۔
PM meets Seychelles President: وزیراعظم نریندر مودی نے سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمنی سے کی ملاقات، وژن مہاساگر کے لیے ان کی حمایت کو سراہا
وزارت خارجہ نے سیشلز کو بھارت کا ایک اہم سمندری ہمسایہ اور بھارت کے وژن مہاساگر میں کلیدی شراکت دار قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت گلوبل ساؤتھ کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور سیشلز اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔
PM Modi held bilateral talks: وزیراعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان کوالالمپور میں اہم دو طرفہ مذاکرات، تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق
اقتصادی تعاون، دفاع، سلامتی، صاف توانائی، زراعت، مینوفیکچرنگ اور اسکل ڈیولپمنٹ سمیت کئی شعبوں میں شراکت داری مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو۔ وزیر اعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان ہونے والی یہ اہم ملاقات نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے اقتصادی، دفاعی اور سماجی شعبوں میں نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔
Trump to host Syria’s al-Sharaa: امریکہ اور شام کے تعلقات میں نیا موڑ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 80 برس بعد وائٹ ہاؤس میں پہلی بار شام کے صدر احمد الشرع کی کریں گے میزبانی
گزشتہ 80 برسوں میں کسی شامی صدر کا امریکہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دہائی قبل احمدالشرع کے سر پر امریکہ نے 10 ملین ڈالر انعام مقرر کیا تھا اور وہ عراق جنگ کے دوران امریکی فوج کی قید میں بھی رہ چکے ہیں۔





