نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز قومی راجدھانی میں واقع حیدرآباد ہاؤس میں ایسٹونیا کے صدر الار کاریس سے ملاقات کی۔ یہ اعلیٰ سطحی ملاقات جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر الار کاریس نے منگل کو نئی دہلی میں اپنے خطاب کے دوران ایسٹونیا اور بھارت کے درمیان تاریخی مماثلتوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آئندہ یومِ جمہوریہ ایسٹونیا کے تناظر میں دونوں ممالک کو بالترتیب ’’قدیم یورپی قوم‘‘ اور ’’تہذیب کا گہوارہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے نوآبادیاتی دور کا سامنا کیا اور عالمی جنگوں کے بعد آزادی حاصل کر کے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ریاستوں کی صورت اختیار کی۔
ڈیجیٹل سفر اور اے آئی تعاون
صدر کاریس نے ایسٹونیا کے 1990 کی دہائی کے معروف ’’ٹائیگر لیپ‘‘ پروگرام کا ذکر کیا، جس کے ذریعے ملک بھر میں تعلیمی نظام کو ڈیجیٹل بنایا گیا تھا۔ انہوں نے اس کا موازنہ موجودہ ’’اے آئی لیپ‘‘ اقدام سے کیا، جس کا مقصد طلبہ اور اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کا ان کا دورہ عالمی اے آئی سمٹ میں شرکت کے لیے ہے اور مصنوعی ذہانت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ بن چکا ہے۔ اقتصادی محاذ پر صدر کاریس نے بھارتی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے گرین ہائیڈروجن اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔
یوکرین کی صورتحال پر تشویش
عالمی سلامتی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر ایسٹونیا نے روس کی یوکرین کے خلاف جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہے، اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے جنگ روس کے لیے مہنگی ثابت ہو۔ صدر کاریس نے شاعرِ مشرق رابندرناتھ ٹیگور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور ایسٹونیا کی دوستی جمہوریت، تکثیریت اور خودمختاری کے احترام جیسی مشترکہ اقدار پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک اسی راستے پر قائم رہے تو ان کی دوستی مضبوط اور دیرپا ثابت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

