India’s MAHASAGAR Policy: ’’ہندوستان کی مہاساگر پالیسی جاپان کے آزاد اور کھلے بھارت-بحرالکاہل وژن سے ہم آہنگ‘‘ وزیراعظم مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سنائے تاکائیچی کا اظہار خیال
سنائے تاکائیچی نے کہا کہ آئندہ برس ہندوستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوں گے، جسے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے کے بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہند-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے تک لے جانا چاہتی ہوں، اور آئندہ دورے پر وزیر اعظم مودی کا جاپان میں خیرمقدم کرنے کی منتظر ہوں۔
Japanese PM arrives India: وزیراعظم مودی کی دعوت پر جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائیچی پہنچیں بھارت، 16ویں بھارت-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں ہوں گی شریک
سفارتی ذرائع کے مطابق، اجلاس میں سرمایہ کاری، اختراع، سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، اقتصادی سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری سلامتی، مصنوعی ذہانت، دواسازی، بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی کے شعبے، اوڈیشہ میں گرین امونیا منصوبے، بایو گیس اور POWERR Asia کے تحت علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر پیش رفت متوقع ہے۔
G-7 Summit: وزیراعظم مودی اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی ملاقات، توانائی تعاون اور عالمی غذائی تحفظ پر تبادلۂ خیال
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور عالمی توانائی و غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اور لچکدار سپلائی چین نہایت اہم ہے۔ ملاقات میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور میٹالرجیکل کوئلے سے متعلق تجارتی انتظامات سمیت اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
PM Modi arrives Geneva: جی-7 سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچے وزیراعظم مودی، سلوواکیہ کے تاریخی دورے کا اختتام
جنیوا: وزیراعظم نریندر مودی منگل کو (مقامی وقت کے مطابق) سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ گئے، جہاں سے وہ فرانس کے تفریحی مقام ایویان میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ فرانس 15 سے 17 جون تک 52ویں جی-7 سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ بھارت اس مرتبہ شراکت دار …
Bratislava Castle: سلوواکیہ میں وزیراعظم مودی کے اعزاز میں ترنگے سے سجایا گیا براتسلاوا قلعہ، دورۂ سلوواکیہ کے دوران ثقافتی اور سفارتی روابط کو نئی تقویت
اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے ڈاکٹر رابرٹ گافریک سے ملاقات کی، جنہوں نے اپنشدوں کا سلوواک زبان میں ترجمہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کی ہے۔ وزیر اعظم نے اس اقدام کو بھارت اور سلوواکیہ کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا۔
Traditional Slovakian Welcome: وزیراعظم مودی کا سلوواکیہ میں روایتی استقبال، بریڈ اور نمک پیش کرکے کیا گیا خیرمقدم، اعلیٰ سطحی قیادت سے جلد ملاقات متوقع
سلوواک روایت کے مطابق وزیراعظم کو بریڈ اور نمک پیش کیا گیا ہے جو خیر سگالی، دوستی اور مہمان نوازی کی علامت مانا جاتا ہے۔ وزیراعظم مودی جی-7 سربراہ اجلاس کے سلسلے میں فرانس کے دورے پر ہیں۔ اسی درمیان وہ سلوواکیہ کی راجدھانی براتسلاوا پہنچے ہیں جہاں روایتی جوش وخروش کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا ہے۔
PM Modi arrives in Bratislava: وزیراعظم نریندر مودی پہنچے براتسلاوا، کہا: ’’یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو بنائے گا مزید مضبوط‘‘
سلوواکیہ کی آزادی کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
India-Italy Relationship: بھارت اور اٹلی کے مابین خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری، دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی طاقت بن چکے ہیں ٹیکنالوجی اور اختراع: وزیراعظم
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں انہیں کئی بار جارجیا میلونی سے ملاقات کا موقع ملا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میلونی کی قیادت میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو نئی رفتار، نئی سمت اور نیا اعتماد ملا ہے۔
PM Modi to visit Norway: ناروے میں نورڈک-انڈیا سمٹ میں شریک ہوں گے وزیراعظم مودی، تجارت، گرین ٹرانزیشن اور عالمی تعاون پر تبادلۂ خیال متوقع
دورے کے دوران نریندر مودی ناروے کے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما ناروے-انڈیا بزنس اینڈ ریسرچ سمٹ میں بھارتی اور ناروے کے صنعت کاروں اور کاروباری نمائندوں سے بھی خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ ناروے کے بادشاہ بھی وزیر اعظم مودی سے خصوصی ملاقات کریں گے۔
India-South Korea Partnership: وزیراعظم مودی کا امن و استحکام کا پیغام، ہند-جنوبی کوریا تعلقات میں پیش رفت، سیول کی عالمی سولر اتحاد اور آئی پی او آئی میں شمولیت
نئی دہلی اور سیول کے درمیان یہ ’’مستقبل شراکت داری‘‘ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں امن، ترقی اور شمولیت کو بھی فروغ دے گی۔





