Bharat Express DD Free Dish

global partnership

صدر الیگزینڈر اسٹب نے وزیراعظم مودی کا پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت فن لینڈ کا اہم شراکت دار ہے اور نیا یورپی یونین بھارت آزاد تجارتی معاہدہ تجارت، معیشت، سائنس اور جدت کے شعبوں میں نئے مواقع فراہم کرے گا۔ 

اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق وزیراعظم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کریں گے اور یروشلم میں ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ اس مجوزہ دورے کو ہند-اسرائیل تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دو طرفہ تعاون کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے پس منظر میں بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان اے آئی گورننس، تحقیق، اختراع اور عالمی تعاون کے شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

عالمی سلامتی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر ایسٹونیا نے روس کی یوکرین کے خلاف جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہے، اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے جنگ روس کے لیے مہنگی ثابت ہو۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو ایک نئی سمت دے رہا ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اعتماد، دوستی اور مشترکہ امنگوں پر مبنی یہ شراکت داری آنے والے وقت میں دونوں ملکوں کے لیے نئی کامیابیوں کے دروازے کھولنے کی امید دلا رہی ہے۔

کیر اسٹارمر نے کہا کہ جولائی میں برطانیہ میں وزیراعظم مودی کی میزبانی کرنا باعثِ فخر تھا اور چند ماہ بعد بھارت کا جوابی دورہ کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں ملاقات اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ بھارت کی معاشی و مالیاتی راجدھانی ہے اور بھارت کی ترقی کی کہانی واقعی غیر معمولی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے جاپان کی معروف یونیورسٹیوں میں بھارتی طلبہ کی تعداد بڑھانے اور پانچ لاکھ لوگوں کے تبادلے کے لئے ایکشن پلان کی بات کی۔ ساتھ ہی 50,000 بھارتی پروفیشنلز کو جاپان بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گھانا کے صدر جان مہاما کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے تجارتی اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔