نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلین سے دوطرفہ ملاقات کی۔ یہ سمٹ قومی دارالحکومت میں 20 فروری تک جاری ہے، جس میں تقریباً 20 عالمی رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان مصنوعی ذہانت، اختراع اور ڈیجیٹل حکمرانی کے شعبوں میں روابط تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ بدھ کے روز صدر پارمیلین نے سمٹ میں شرکت کے دوران بھارت کے محفوظ، جامع اور مؤثر اے آئی وژن کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ سمٹ کے تین بنیادی ستون عوام، ترقی اور سیارہ سے مکمل اتفاق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں اے آئی کو اس انداز میں فروغ دینا ہوگا کہ دنیا بھر کے لوگ اس کے امکانات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس میں معاشی اور سماجی ترقی شامل ہے، اور ساتھ ہی ہمیں اپنے سیارے کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘
بھارت کی اے آئی صلاحیتوں کا اعتراف
صدر پارمیلین نے بھارت کی اے آئی تحقیق اور اختراع میں بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ بھارت کے ساتھ گہرے تعاون کے وسیع امکانات دیکھتا ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ سوئس اسٹارٹ اپس بھی سمٹ میں شریک ہیں اور بھارتی شراکت داروں کے ساتھ نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ اور بھارت ذمہ دار اختراع کے معاملے میں مشترکہ سوچ رکھتے ہیں، جس کا مقصد عوامی فلاح، جامع معاشی ترقی اور سماجی بہتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی اور کثیرالجہتی معاہدوں کی تشکیل میں بھارت کے ساتھ قریبی تعاون کو اہمیت دی جاتی ہے۔ صدر پارمیلین نے کہا کہ دہلی سمٹ کے اصول 2027 میں سوئٹزرلینڈ میں متوقع عالمی اجلاس کے ایجنڈے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس موسمِ گرما میں جنیوا میں منعقد ہونے والے عالمی مکالمے میں بھی ان اصولوں کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ یورپ کی کونسل کے فریم ورک کنونشن برائے اے آئی میں قیادت کر رہا ہے، جسے اے آئی سے متعلق پہلا قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ قرار دیا جاتا ہے، اور بھارت کو بھی اس عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔
تجارتی شراکت داری میں پیش رفت
بھارت–ای ایف ٹی اے تجارتی و معاشی شراکت داری معاہدے (ٹی ای پی اے) کے حوالے سے صدر پارمیلین نے کہا کہ اس سے سوئس برآمدات کو نمایاں مارکیٹ رسائی ملی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 95 فیصد موجودہ سوئس برآمدات (سونے کے علاوہ) کو بہتر رسائی حاصل ہوگی، جبکہ گھڑیاں اور مشینری کی بیشتر اقسام پہلے ہی زیرو ڈیوٹی سہولت سے مستفید ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں سوئٹزرلینڈ کو مالیاتی شعبے میں بہتر رسائی ملی ہے، جہاں بھارت نے غیر ملکی حصص کی حد میں اضافہ اور لائسنسنگ کے طریقۂ کار کو مزید واضح کیا ہے۔ اس کے علاوہ تنصیب اور دیکھ بھال کے ماہرین کے عارضی داخلے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے پس منظر میں بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان اے آئی گورننس، تحقیق، اختراع اور عالمی تعاون کے شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

