Bharat Express DD Free Dish

diplomatic dialogue

وزیراعظم نریندر مودی نے سلوواک ہم منصب رابرٹ فیکو کے ساتھ وفود کی سطح پر اہم مذاکرات کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، اختراع، آٹوموبائل صنعت، ریلوے ترقی اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم مودی نے صدر میکروں کی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور فرانس عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ انہوں نے انٹرنیشنل سولر الائنس، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون اور بھارت-بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

سویڈن کی نائب وزیراعظم بدھ کے روز قومی راجدھانی پہنچی تھیں تاکہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں شرکت کر سکیں۔ وزارت خارجہ نے اپنے پیغام میں بھارت-سویڈن تعلقات کو تجارت، معیشت، سائنس، اختراع، موسمیاتی اقدام اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں پر محیط قرار دیا۔

یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے پس منظر میں بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان اے آئی گورننس، تحقیق، اختراع اور عالمی تعاون کے شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

فرانس کے صدر میکروں نے بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی ستائش۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر بھارت–فرانس اسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلۂ خیال۔

دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ وزیراعظم مودی نے خطے میں انصاف پسندانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کی حمایت کو دوہرایا اور غزہ امن منصوبے کے جلد نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

امریکی حکمت عملی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ روس کو چینی ٹیکنالوجی کے بجائے امریکی سازوسامان خریدنے پر آمادہ کیا جائے، تاکہ بیجنگ اور ماسکو کے تعلقات میں فاصلہ پیدا کیا جا سکے۔

یہ دورہ وزیراعظم نریندر مودی کے آئندہ دورۂ چین سے قبل ہو رہا ہے۔ مودی 31 اگست سے یکم ستمبر تک تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ حالیہ مہینوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کے لیے کئی اہم اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم مودی اور صدر میلئی کے درمیان بات چیت میں دفاع، زراعت، کانکنی، تیل و گیس، قابل تجدید توانائی، تجارت و سرمایہ کاری اور عوامی روابط جیسے اہم شعبوں میں موجودہ تعاون کا جائزہ لینے اور شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔