Bharat Express DD Free Dish

strategic cooperation

وزیراعظم سے ملاقات سے قبل غدیر نظامی پور نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران، انڈونیشیا اور ایتھوپیا سمیت مختلف برکس ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کئی شراکت دار ممالک کے نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں سلامتی، علاقائی تعاون اور مشترکہ مفادات سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سلوواکیہ کی آزادی کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

امریکی قانون سازوں اور کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھارت کے سب سے طویل عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کویت میں مقیم بڑی بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے امیرِ کویت کی ذاتی توجہ اور کوششوں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پی ایم او کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون ضروری ہیں۔

نریندر مودی کے اس دورے کو بھارت اور نیدرلینڈ کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تزویراتی اور تکنیکی تعاون کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کا اعادہ۔ دورے کے دوران اختراع، ثقافتی تبادلے، مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں سمیت مجموعی طور پر 27 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ برازیل میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے لیے ایک سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور بلاک چین جیسے شعبوں میں تعاون کو ترجیح قرار دیا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کو جامع ہونا چاہیے اور مشترکہ ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔ 

برازیل کے صدر لولا دا سلوا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: ’’بھارت اور برازیل کی عالمی اسٹیج پر شراکت داری مضبوط اور مؤثر رہی ہے۔ جمہوری ممالک کے طور پر ہم گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات اور امنگوں کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔‘‘

یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے پس منظر میں بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان اے آئی گورننس، تحقیق، اختراع اور عالمی تعاون کے شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔