نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ گفتگو کے دوران وزیر اعظم مودی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کویت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے بھارت کے مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے کشیدگی میں کمی، باہمی مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کیے جانے چاہئیں۔
کویت میں مقیم بھارتی برادری کے تحفظ پر اظہار تشکر
وزیر اعظم مودی نے کویت میں مقیم بڑی بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے امیرِ کویت کی ذاتی توجہ اور کوششوں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پی ایم او کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون ضروری ہیں۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ کا بیان
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ نیو یارک میں این بی اے فائنلز کا میچ دیکھنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور چند دنوں میں صورتحال بالکل واضح ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا معاہدہ قریب ہے جس کے تحت ایران کو کسی بھی شکل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا، اور یہ پیش رفت آئندہ دو یا تین دن میں بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ طے ہونے تک ایران پر زیادہ سے زیادہ اقتصادی دباؤ برقرار رکھا جائے گا اور اس اہم بحری راستے سے تیل یا دیگر آمدنی کے ذرائع کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری پسِ پردہ سفارتی رابطوں کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
