Bharat Express DD Free Dish

peace efforts

دوسری جانب ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں درجنوں افراد نے وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے خلاف نعرے لگائے اور استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کویت میں مقیم بڑی بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے امیرِ کویت کی ذاتی توجہ اور کوششوں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پی ایم او کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون ضروری ہیں۔

صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ’’اگر امریکی حکومت اپنی بالادستی کی پالیسی کو ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرے تو معاہدے تک پہنچنے کے امکانات یقینی طور پر موجود ہیں۔‘‘

وزیراعظم نے بدھ کی رات شیخ صباح الخالد الصباح سے بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور حالیہ واقعات پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے کویت پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت بھی کی۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل بات چیت ضروری ہے۔

سعودی عرب سمیت 12 ممالک آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، پاکستان، قطر، شام، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایران کے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔ بیان میں ایران پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرے اور خطے کے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے۔

جامعہ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سکریٹری حارث الحق نے امریکہ-اسرائیل اورایران کے درمیان ہوئی جنگ میں سپریم رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پرتعزیت کا اظہارکیا اورایرانی عوام کو صبروعظم کی تلقین کی۔

بھارت کی جانب سے یہ مسلسل سفارتی رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ نئی دہلی مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن، استحکام اور وہاں مقیم بھارتی برادری کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی، جو اب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تنازع کی بنیادی وجوہات میں جغرافیائی سیاست اور سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔ روس کے نقطۂ نظر سے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی کوشش ایک بڑا سبب ہے، جس سے اس کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

وزیر داخلہ نے اس موقع پر یہ بھی دوہرایا کہ مرکزی حکومت نکسل ازم کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔‘‘

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات عملاً منقطع ہو چکے ہیں۔ فی الحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی وقت دوبارہ تصادم بھڑک سکتا ہے‘‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں۔