Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine War: روس۔یوکرین جنگ کے چار سال مکمل، زیلنسکی کا عزم ’امن کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے‘

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی، جو اب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تنازع کی بنیادی وجوہات میں جغرافیائی سیاست اور سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔ روس کے نقطۂ نظر سے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی کوشش ایک بڑا سبب ہے، جس سے اس کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

نئی دہلی: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ پانچویں سال میں داخل ہو گئی ہے۔ اگرچہ امریکی ثالثی میں دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، تاہم چار سال مکمل ہونے پر یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ زیلنسکی نے کہا: ’’پوتن اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے یوکرینی عوام کو نہیں توڑا اور نہ ہی یہ جنگ جیت سکے۔ ہم نے یوکرین کو بچایا ہے اور ہم امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور انصاف کو یقینی بنائیں گے۔‘‘

جنگ کا پس منظر

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی، جو اب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تنازع کی بنیادی وجوہات میں جغرافیائی سیاست اور سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔ روس کے نقطۂ نظر سے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی کوشش ایک بڑا سبب ہے، جس سے اس کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کا مؤقف ہے کہ اگر یوکرین نیٹو میں شامل ہوتا ہے تو مغربی ممالک کی افواج اور میزائل روس کی سرحدوں کے قریب آ جائیں گے، جو اس کے لیے خطرے کا باعث ہوگا۔

2014 سے کشیدگی میں اضافہ

1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد یوکرین ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ روسی قیادت کا ماننا ہے کہ آزادی کے بعد یوکرین بتدریج یورپی ممالک اور امریکہ کے قریب ہوتا گیا، جسے ماسکو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ سنہ 2014 میں روس نواز رہنما وکٹر یانوکووچ کو صدارت سے ہٹائے جانے کے بعد روس نے کریمیا پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے — ڈونیٹسک اور لوہانسک — میں روس نواز علیحدگی پسندوں اور یوکرینی افواج کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ 21 فروری 2022 کو روس نے ڈونباس کے دو خود ساختہ جمہوریاؤں، ڈونیٹسک اور لوہانسک، کو تسلیم کیا، جس کے تین دن بعد 24 فروری 2022 کو روس نے یوکرین کے مختلف حصوں پر فوجی کارروائی شروع کر دی۔ تب سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے۔ دریں اثنا، امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے 28 نکاتی معاہدہ پیش کیا ہے، جس پر دونوں ممالک امریکی ثالثی میں بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم، میدانِ جنگ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔