NATO Summit: نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ پہنچے ڈونلڈ ٹرمپ، صدر اردگان نے کیا پرتپاک استقبال، دفاعی اخراجات اور یورپی سلامتی پر تبادلۂ خیال کا امکان
وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی کے مطابق صدر ٹرمپ اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور شام کے صدر احمد الشرع سے بھی دوطرفہ ملاقات کریں گے۔ ان کے مطابق ٹرمپ منگل کی شام نیٹو رہنماؤں کے اعزازی عشائیے میں شرکت کریں گے، جبکہ بدھ کو سرکاری استقبالیہ، اجتماعی تصویر اور نیٹو رہنماؤں کے ورکنگ سیشن میں شریک ہوں گے۔
G-7 Summit: جی-7 سربراہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کا دلچسپ تبصرہ بھی وائرل
جی-7 رہنماؤں نے عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور سرحد پار منظم جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی تیز کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اعلامیے میں سمندری سلامتی مضبوط بنانے، مجرمانہ مالیاتی نیٹ ورک توڑنے اور سرکاری و نجی اداروں میں جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کا اعلان کیا گیا۔
G7 Summit Joint Action: جی-7 سربراہان کا منشیات اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق، سرحد پار جرائم سے نمٹنے پر زور
جی-7 اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں رہنماؤں نے کہا کہ عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ میں تیزی سے اضافہ قومی سلامتی، اقتصادی خوشحالی اور جمہوری اداروں کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ’’ہم، جی-7 کے رہنما، منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘ اس اعلامیے کی برازیل اور جنوبی کوریا نے بھی حمایت کی۔
G-7 Summit: جی-7 سربراہ اجلاس میں روایتی گروپ فوٹو کے بعد وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی مختصر ملاقات
جی-7 اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی کی کئی اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان شامل ہیں۔ کل وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس ملاقات میں مجوزہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
G-7 Summit: جی-7 سربراہ اجلاس میں وزیراعظم مودی کی عالمی رہنماؤں کے ساتھ روایتی گروپ فوٹو میں شرکت، اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع
روایتی گروپ فوٹو سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جی-7 اجلاس کے مقام پر وزیراعظم نریندر مودی کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم مودی فرانسیسی صدر کی خصوصی دعوت پر اس اہم عالمی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے ہیں۔ بھارت اس مرتبہ 13ویں بار شراکت دار ملک کے طور پر جی-7 اجلاس میں شرکت کر رہا ہے، جبکہ وزیراعظم مودی مسلسل ساتویں مرتبہ اس عالمی فورم کا حصہ بنے ہیں۔
PM Modi arrives Geneva: جی-7 سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچے وزیراعظم مودی، سلوواکیہ کے تاریخی دورے کا اختتام
جنیوا: وزیراعظم نریندر مودی منگل کو (مقامی وقت کے مطابق) سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ گئے، جہاں سے وہ فرانس کے تفریحی مقام ایویان میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ فرانس 15 سے 17 جون تک 52ویں جی-7 سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ بھارت اس مرتبہ شراکت دار …
World Leaders Congratulate PM Modi: سری لنکا کے صدر اور یورپی کونسل کے صدر نے وزیراعظم مودی کو دی مبارکباد، قیادت کو سراہا
وزیراعظم نریندر مودی نے منتخب وزیراعظم کے طور پر ملک میں سب سے طویل مدت تک خدمات انجام دینے کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس تاریخی کامیابی پر دنیا بھر سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی لیڈر اسے بھارت کے جمہوری سفر کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے وزیراعظم مودی کی قیادت کی ستائش کر رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔
World Leaders Congratulate PM Modi: دنیا کے اہم لیڈروں نے پی ایم نریندر مودی کو دی مبارکباد، طویل ترین منتخب بھارتی وزیر اعظم بننے پر خراج تحسین
دنیا کے اہم لیڈروں کی جانب سے جاری کیے گئے پیغامات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نریندر مودی کی مسلسل عوامی حمایت اور انتخابی کامیابیاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں عوام کے اعتماد کا مظہر ہیں۔ لیڈروں نے ان کی قیادت کو بھارت کی معاشی، سماجی اور سفارتی پیش رفت سے جوڑتے ہوئے اسے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
PM Modi World’s most Popular Leader: وزیر اعظم مودی بن گئے دنیا کے سب سے مقبول لیڈر، سروے میں 70 فیصد منظوری کی درجہ بندی
24 جمہوری ممالک میں کیے گئے مارننگ کنسلٹ سروے میں وزیر اعظم نریندر مودی دنیا کے سب سے مقبول لیڈر بن گئے۔ انہیں 70 فیصد منظوری کی درجہ بندی ملی، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز سب سے کم مقبول لیڈر ثابت ہوئے۔
Russia-Ukraine War: روس۔یوکرین جنگ کے چار سال مکمل، زیلنسکی کا عزم ’امن کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے‘
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی، جو اب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تنازع کی بنیادی وجوہات میں جغرافیائی سیاست اور سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔ روس کے نقطۂ نظر سے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی کوشش ایک بڑا سبب ہے، جس سے اس کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔





