نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع میں 21 ماؤنوازوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ان کے اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ یہ قدم امن اور ترقی کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے اُن ماؤنوازوں سے بھی اپیل کی جو اب تک تشدد کے راستے پر ہیں کہ وہ جلد از جلد ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوں۔
تشدد ترک کرنے والوں کی ستائش
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امت شاہ نے لکھا: ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع میں 21 ماؤنوازوں نے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ سرینڈر کیا ہے۔ ان میں سے 13 سینئر کیڈر ہیں۔ مودی حکومت کی اپیل پر تشدد کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے کے فیصلے کی میں ستائش کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’میں ان تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں جو ابھی تک بندوق اٹھائے ہوئے ہیں کہ وہ جلد سے جلد ہتھیار ڈال دیں۔‘‘
31 مارچ 2026 تک نکسل کا خاتمہ ہمارا عزم
وزیر داخلہ نے اس موقع پر یہ بھی دوہرایا کہ مرکزی حکومت نکسل ازم کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم 31 مارچ 2026 تک نکسلواد کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔‘‘
اتوار کو کانکیر ضلع میں 21 ماؤنوازوں نے ہتھیار ڈال کر سماجی دھارے میں واپسی کا فیصلہ کیا۔ یہ اقدام ریاستی حکومت کی مہم ’’پونا مارگم: پُنرواس سے پُنرجیون‘‘ (یعنی پھر سے زندگی کی راہ) کے تحت کیا گیا۔ ان میں 4 ڈی وی سی ایم (ڈویژن کمیٹی ممبر)، 9 اے سی ایم (ایریا کمیٹی ممبر) اور 8 پارٹی کارکن شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں 13 خواتین اور 8 مرد ماؤنواز شامل ہیں، جن میں ڈویژن کمیٹی کے سکریٹری مکیش بھی شامل ہیں۔
3 اے کے-47 سمیت 18 ہتھیار ضبط
پولیس کے مطابق ان ماؤنوازوں کے پاس سے 18 جدید ہتھیار برآمد کیے گئے، جن میں 3 اے کے-47 رائفلیں، 4 ایس ایل آر رائفلیں، 2 انساس رائفلیں، چھ 303 رائفلیں، دو سنگل شاٹ رائفلیں اور ایک بی جی ایل ہتھیار شامل ہے۔
400 سے زیادہ ماؤنوازوں نے چھوڑیں بندوقیں
گزشتہ دو ہفتوں میں چھتیس گڑھ میں 400 سے زائد ماؤنوزوں نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں۔ سب سے بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب باسٹر ضلع میں واقع نکسل گڑھ ماڑ علاقہ کے 208 نکسلیوں نے پولیس لائنز میں منعقد ایک پروگرام کے دوران ہندوستانی آئین ہاتھ میں لے کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل 16 اکتوبر کو 170 اور 15 اکتوبر کو 27 ماؤوادیوں نے بھی ہتھیار ڈالے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




