نئی دہلی : گرین لینڈ پر کنٹرول سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پرانا خواب اب ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ ٹرمپ نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت گرین لینڈ کی سلامتی کی مستقل ذمہ داری امریکا سنبھالے گا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا کو گرین لینڈ اور اپنی سلامتی کے لیے وہاں ضروری کارروائی کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے مخالف ممالک گرین لینڈ میں امریکی تحریری اجازت کے بغیر فوجی اڈہ یا حساس سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔ اگرچہ ٹرمپ نے اپنے بیان میں روس اور چین کا نام نہیں لیا، لیکن وہ طویل عرصے سے یہ خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ان دونوں ممالک کی گرین لینڈ میں فوجی یا اسٹریٹجک موجودگی ہوسکتی ہے۔تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کی جانب سے تصدیق کیے گئے معاہدے کی زبان زیادہ محدود ہے۔ دونوں نے واضح کیا ہے کہ ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو برقرار رکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ ابھی دونوں پارلیمانوں کی منظوری سے مشروط ہے۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ آخر ہیں کیا؟
ڈنمارک شمالی یورپ کا نیٹو رکن ملک ہے، جس کا دارالحکومت کوپن ہیگن ہے۔ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ شمالی امریکا کے آرکٹک خطے میں واقع ہے، لیکن سیاسی طور پر ڈنمارک کی سلطنت کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔گرین لینڈ کی اپنی حکومت ہے، جبکہ دفاع اور خارجہ پالیسی طویل عرصے سے ڈنمارک کے دائرۂ اختیار میں رہی ہے۔ یہاں تقریباً 56 ہزار افراد رہتے ہیں، جن میں بڑی تعداد مقامی انوئٹ آبادی کی ہے۔گرین لینڈ کی اہمیت صرف برف اور جغرافیہ تک محدود نہیں ہے۔ یہ شمالی امریکا اور یورپ کے درمیان انتہائی اہم اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے۔ امریکا پہلے ہی یہاں پِٹفِک اسپیس بیس چلا رہا ہے، جس کا استعمال میزائل وارننگ، خلائی نگرانی اور دفاعی سرگرمیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا اصل مقصد کیا تھا؟
ٹرمپ پہلے بھی گرین لینڈ کو امریکا کے کنٹرول میں لینے کی بات کر چکے ہیں۔ ان کی خواہش گرین لینڈ کو امریکی علاقے کا حصہ بنانے تک رہی ہے، لیکن موجودہ معاہدے کے تحت گرین لینڈ امریکا کا حصہ نہیں بن رہا اور اس کی خودمختاری ڈنمارک کے پاس ہی برقرار رہے گی۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدہ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔ گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے بھی معاہدے کو خطے کی سلامتی مضبوط کرنے والا قرار دیا ہے۔
یعنی ٹرمپ جس ’قبضے‘ یا مکمل ملکیتی کنٹرول کی بات پہلے کرتے رہے ہیں، موجودہ معاہدہ اس کے بجائے امریکا کو گرین لینڈ میں سکیورٹی، فوجی رسائی اور موجودگی کے حوالے سے وسیع اختیارات فراہم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسے قانونی طور پر قبضہ یا ’سافٹ انیکسیشن‘ کہنا فی الحال درست نہیں ہوگا، کیونکہ معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں اور اسے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی پارلیمانی کارروائی سے بھی گزرنا ہے۔
امریکا نے روس اور چین کے خطرے کا دیا حوالہ
ٹرمپ طویل عرصے سے کہتے رہے ہیں کہ روس اور چین سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکا کو گرین لینڈ میں مضبوط موجودگی کی ضرورت ہے۔ نئے معاہدے کے تحت غیر نیٹو ممالک کے گرین لینڈ میں فوجی اڈے قائم کرنے پر پابندی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ کاری کی صلاحیت بھی محدود کی جائے گی اور انہیں وہاں فوجی اڈہ قائم کرنے سے روکا جائے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کرنے کا عمل شروع کرے گا۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ نے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدہ آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں مشترکہ سلامتی کو مضبوط کرے گا، جبکہ گرین لینڈ کی خودمختاری اور عوام کے حقِ خود ارادیت کو بھی برقرار رکھے گا۔ معاہدے پر باضابطہ دستخط اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر متوقع ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


