Bharat Express DD Free Dish

Greenland

امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ کاری کی صلاحیت بھی محدود کی جائے گی اور انہیں وہاں فوجی اڈہ قائم کرنے سے روکا جائے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کرنے کا عمل شروع کرے گا۔

دنیا کی سفارتی سیاست میں اس وقت گرین لینڈ کو لے کر غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس برف پوش جزیرے کو اسٹریٹجک اہمیت کے باعث حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، تو دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس معاملے میں ایسا بیان دے کر سب کو چونکا دیا ہے جسے مبصرین ’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر گرین لینڈ کے معاملے پر ایک بار پھر جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں صرف امریکہ ہی ایسا ملک ہے جو گرین لینڈ کی مؤثر حفاظت کر سکتا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو لے کر عالمی سیاست میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ مسلسل گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات دے رہا ہے، تو دوسری جانب ڈنمارک اس معاملے پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ اسی دوران روس اور چین بھی اس خطے میں بڑھتی امریکی دلچسپی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو لے کر ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نئی وارننگ جاری کی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے اس اسٹریٹجک خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں اس سمت میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کے خلاف اب خود گرین لینڈ میں عوامی غصہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ دارالحکومت نوک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور واضح پیغام دیا کہ ”گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے“۔

بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان یورپی یونین نے اپنے تمام سفیروں کی ہنگامی میٹنگ طلب کر لی ہے۔ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے سفیر اتوار کو ایک ایمرجنسی اجلاس کے لیے جمع ہوں گے۔ قبرص، جس کے پاس چھ ماہ کے لیے یورپی یونین کی باری باری صدارتی ذمہ داری ہے، نے ہفتہ کی رات دیر گئے بتایا کہ اس نے اتوار کے روز یہ اجلاس بلایا ہے۔

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی سلطنت کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے، جہاں دفاع اور خارجہ پالیسی کا اختیار کوپن ہیگن کے پاس ہے۔ امریکہ کا اس جزیرے پر ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ سال 2025 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، اسی دوران چین کے سرکاری میڈیا نے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیو کے ذریعے ٹرمپ حکومت کا مذاق اڑایا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ گرین لینڈ کو امریکہ کے ذریعے حاصل کرنے کا معاملہ صدر اور قومی سلامتی ٹیم کے درمیان سرگرم بحث میں ہے۔ انہوں نے اسے آرکٹک خطے میں روس اور چین کی جارحانہ سرگرمیوں کو روکنے سے جوڑا۔ حالانکہ، یہ بھی واضح کیا کہ صدر کی اولین ترجیح ہمیشہ سفارت کاری رہی ہے۔