Bharat Express DD Free Dish

Greenland Protest: گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں! دارالحکومت نوک کی 25 فیصد آبادی سڑکوں پر، ٹرمپ کے خلاف ’یانکی گو ہوم‘ کے نعرے

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کے خلاف اب خود گرین لینڈ میں عوامی غصہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ دارالحکومت نوک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور واضح پیغام دیا کہ ”گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے“۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کے خلاف اب خود گرین لینڈ میں عوامی غصہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ دارالحکومت نوک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور واضح پیغام دیا کہ ”گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے“۔ مظاہرین نے ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو اپنی خودمختاری اور وقار پر حملہ قرار دیتے ہوئے امریکہ مخالف نعرے لگائے اور سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اتوار کو ہونے والے اس مظاہرے کو گرین لینڈ کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا عوامی احتجاج بتایا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس احتجاج میں نوک شہر کی تقریباً 25 فیصد آبادی نے حصہ لیا۔ مظاہرین شہر کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے سے مارچ کرتے ہوئے امریکی قونصل خانے تک پہنچے۔ ہاتھوں میں پلے کارڈز، بینرز اور جھنڈے تھامے لوگوں نے ”گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں“، ”ہم اپنی زمین نہیں دیں گے“ اور ”یانکی گو ہوم“ جیسے نعرے لگائے۔ گرین لینڈ میں امریکہ کو عام طور پر ”یانکی“ کہا جاتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مظاہرے میں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ خواتین، بزرگ اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کسی بھی صورت میں کسی عالمی طاقت کی جاگیر نہیں ہے اور نہ ہی یہاں کے عوام اپنی سرزمین کے مستقبل پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول کریں گے۔ احتجاج پُرامن رہا، تاہم اس کی شدت نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

یورپی یونین پلٹ وار کی کر رہا تیاری
دوسری جانب گرین لینڈ معاملے پر یورپی یونین اور امریکہ کے تعلقات میں بھی کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے بعد اب یورپی یونین بھی جوابی قدم اٹھانے کی تیاری میں ہے۔ یورپین پیپلز پارٹی کے صدر مین فریڈ ویبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کے رویے کے باعث امریکہ کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدے کو فی الحال منظوری دینا ممکن نہیں۔ ویبر نے کہا کہ یورپین پیپلز پارٹی تجارت کے فروغ کے حق میں تھی، مگر گرین لینڈ کو لے کر دی جانے والی دھمکیوں کے بعد امریکی مصنوعات پر زیرو فیصد ٹیرف کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے اس مؤقف کو امریکہ کے لیے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے لگایا 10 فیصد ٹیرف
ادھر صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ معاملے پر امریکہ کا ساتھ نہ دینے والے آٹھ یورپی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان ممالک میں ڈنمارک، جرمنی، ناروے، برطانیہ، سویڈن، نیدرلینڈز، فرانس اور فن لینڈ شامل ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے صدیوں تک یورپی ممالک کو سبسڈی دی، اب وقت آ گیا ہے کہ ڈنمارک اس کا بدلہ چکائے۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کی حفاظت کے لیے ناکافی اقدامات کر رہا ہے، جبکہ روس اور چین اس خطے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق صرف امریکہ ہی گرین لینڈ کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ تاہم گرین لینڈ کے عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے، کسی دباؤ کے تحت نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read