Bharat Express DD Free Dish

India AI Impact Summit

اے آئی سمٹ احتجاج معاملے میں انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر اور دیگر کارکنان کی گرفتاری کے بعد ملکی سیاست میں ایک بار پھر شدید ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے اس کارروائی کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔

یوتھ کانگریس کارکنان کے وکیل نے کہا کہ تمام ملزمان ایک اپوزیشن سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں اور انہوں نے بھارت منڈپم میں پُرامن احتجاج کیا۔ ان کے خلاف ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ انہوں نے کسی کو نقصان پہنچایا ہو۔ احتجاج کرنا آئینی حق ہے، اس لیے پولیس ریمانڈ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

کانگریس سے وابستہ کارکنان کا مؤقف ہے کہ ان کا احتجاج مجوزہ انڈو۔یو ایس ٹریڈ ڈیل کے خلاف تھا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ ملکی اقتصادی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت بین الاقوامی تجارتی معاہدوں میں مقامی صنعتوں اور نوجوانوں کے مفادات کو نظرانداز کر رہی ہے۔

قومی دارالحکومت میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران ٹیکنالوجی صنعت کے ماہر نندن نیلیکنی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے مصنوعی ذہانت سے متعلق وژن کی تعریف کرتے ہوئے ایک ایسا واقعہ بیان کیا جس نے حاضرین کو حیران کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح وزیر اعظم کے ایک خیال نے صرف چند ہفتوں میں لاکھوں ڈیری کسانوں کی زندگی میں عملی تبدیلی پیدا کر دی۔

قومی دارالحکومت دہلی میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سونک کے ایک تبصرے نے حاضرین کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا۔ بھارت منڈپم میں منعقدہ اس عالمی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کے تقریباً ہر شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے، تاہم ابھی تک یہ دہلی کے ٹریفک مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کی حیثیت رکھتی ہے اور بھارت اسے ایک بڑے موقع اور روشن مستقبل کی سمت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج ہم اے آئی کے بارے میں جو کچھ دیکھ اور اندازہ لگا رہے ہیں، وہ اس کے اثرات کی محض ابتدائی جھلک ہے۔

بھارت میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے چوتھے دن وزیراعظم مودی نے ایک تاریخی خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسان کی زندگی میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے اور انسانی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کے کوڈز کو پبلک کیا جانا چاہیے تاکہ یہ دنیا کی بھلائی کے لیے استعمال ہو۔

دارالحکومت دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر ایک منفرد تکنیکی خصوصیت کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی۔ ان کے خطاب کو ایک خصوصی آرٹیفیشل انٹیلی جنس فیچر کے ذریعے حقیقی وقت میں سائن لینگویج (اشاراتی زبان) میں منتقل کیا گیا، جسے حاضرین نے جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی مثال قرار دیا۔

سمٹ کے دوران صدر میکرون نے وزیر اعظم مودی سے ایک اہم اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور امید ظاہر کی کہ بھارت بھی اسی سمت میں پیش رفت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کے تحفظ اور ذہنی صحت کے پیش نظر اس طرح کے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔

عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل اور الفابیٹ کے سی ای او سندر پچائی نے کہا ہے کہ وہ بھارت میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں سے بے حد متاثر ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اربوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت انقلاب لا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کے حوالے سے دنیا کو جرات مندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ اس کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔