Bharat Express DD Free Dish

India AI Impact Summit 2026: اے آئی سب کر سکتا ہے، لیکن دہلی ٹریفک کا حل نہیں نکال سکتا: برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سونک کا طنز

قومی دارالحکومت دہلی میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سونک کے ایک تبصرے نے حاضرین کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا۔ بھارت منڈپم میں منعقدہ اس عالمی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کے تقریباً ہر شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے، تاہم ابھی تک یہ دہلی کے ٹریفک مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سونک کے ایک تبصرے نے حاضرین کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا۔ بھارت منڈپم میں منعقدہ اس عالمی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کے تقریباً ہر شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے، تاہم ابھی تک یہ دہلی کے ٹریفک مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اپنی تقریر کے آغاز میں سونک نے تاخیر پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چند منٹ دیر ہو گئی اور اس کی مکمل ذمہ داری میری ہے۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں مزید کہا کہ اس ہفتے ہم نے سنا کہ اے آئی بہت کچھ کر سکتی ہے، مگر دہلی کی سڑکوں پر ٹریفک جام ختم کرنا ابھی اس کے بس کی بات نہیں۔

سابق برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ اس سمٹ کے دوران جو توانائی اور جذبہ دیکھنے کو ملا ہے وہ دنیا میں کم ہی نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نہ صرف نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ اے آئی کے عملی استعمال میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے عالمی درجہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹینفورڈ کی رپورٹ کے مطابق بھارت اب دنیا کی نمایاں اے آئی طاقتوں میں شامل ہو چکا ہے، جس پر یہاں موجود نوجوان ماہرین اور اسٹارٹ اپس کو فخر ہونا چاہیے۔ سونک نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ اس کامیابی کے باوجود کرکٹ کی آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں انگلینڈ اب بھی آگے ہے۔

ادھر سمٹ کے انعقاد کے باعث وسطی دہلی سمیت کئی اہم سڑکوں پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔ دہلی پولیس نے پہلے ہی خصوصی ٹریفک ایڈوائزری جاری کی تھی، مگر اس کے باوجود متعدد راستوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو روزمرہ سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وی وی آئی پی نقل و حرکت اور سیکورٹی انتظامات کے باعث کئی علاقوں میں ٹریفک کی رفتار انتہائی سست رہی اور بعض مقامات پر گاڑیاں رینگتی ہوئی دکھائی دیں۔ دفتری اوقات کے دوران مسافروں کو گھنٹوں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جس پر عوامی ناراضگی بھی سامنے آئی۔

سوشل میڈیا پر بھی ٹریفک جام سے متعلق شکایات کی بھرمار رہی اور متعدد صارفین نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوربھ بھاردواج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عالمی مہمانوں کے سامنے دارالحکومت کی ٹریفک بدانتظامی ایک بڑا سوال ہے اور بنیادی شہری منصوبہ بندی کسی بھی جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی جیسے بڑے میٹروپولیٹن شہر میں ٹریفک کے مسائل صرف ٹیکنالوجی کے ذریعے حل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے لیے مربوط شہری منصوبہ بندی، پبلک ٹرانسپورٹ کی توسیع، بہتر سگنل نظام اور عوامی شعور میں اضافے کی بھی ضرورت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اے آئی معاون کردار ضرور ادا کر سکتی ہے مگر مکمل حل انسانی فیصلوں اور موثر انتظامی حکمت عملی سے ہی ممکن ہوگا۔

سمٹ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کے اس پروگرام کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور بہتر حکمرانی کے امکانات کو فروغ دینا ہے۔ تاہم دہلی کے موجودہ ٹریفک حالات نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید ترین ایجادات کے ساتھ ساتھ شہری انفراسٹرکچر کی مضبوطی بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ منتظمین نے امید ظاہر کی کہ ٹریفک مینجمنٹ اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے شہریوں کو درپیش مشکلات میں بھی کمی لائی جا سکے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read