Bharat Express DD Free Dish

Rishi Sunak

قومی دارالحکومت دہلی میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سونک کے ایک تبصرے نے حاضرین کو قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا۔ بھارت منڈپم میں منعقدہ اس عالمی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کے تقریباً ہر شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے، تاہم ابھی تک یہ دہلی کے ٹریفک مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سنک نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک 'دوست' قرار دیا اور ہندوستان کے لیے ان کے وژن کو سن کر خوشی کا اظہار کیا۔

برطانیہ ے قانون کے مطابق، لارڈ چانسلر سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے انصاف ہوتا ہے اور یہ عہدہ ایک وزیر کے برابر ہوتا ہے جو انگلینڈ اور ویلز میں عدالتوں اور قانونی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔تقریب کے دوارن پہلی خاتون چیف جسٹس ڈیم سو کار نے متعدد تاریخی باتوں کی نشاندہی کی۔

کانگریس لیڈر نے اپنے خط میں مزید کہا، "ان نظریات کے لیے پرعزم ہونے کے ناطے، میں آپ کو اور برطانیہ کے لوگوں کو ان کی حمایت کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ راہل نے مزید کہا، "میں ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی مسلسل مضبوطی کا بھی منتظر ہوں۔

ادھر مسلم راشٹریہ منچ کے ترجمان Shahid Sayeed نے برطانوی انتخابی نتائج پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان اور برطانیہ کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

برطانیہ میں جیتنے والے ہندوستانی نژاد 28 ایم پیز میں سے ریکارڈ 12 ممبران سکھ کمیونٹی سے آتے ہیں۔ اس میں وہ چھ خواتین بھی شامل ہیں جو ہاؤس آف کامنز کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔ تمام جیتنے والے سکھ ایم پیز کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے۔

لیبر پارٹی تاریخی1997 کے نتائج کو دوہرانے جارہی ہے۔ لیبرپارٹی کو1997 کے بعد اب تک کی سب سے بڑی جیت ملی تھی۔ اس وقت پارٹی کے رہنما ٹونی بلیئر تھے۔ پارٹی نے اس وقت 419 سیٹیں جیتی تھیں۔ جبکہ کنزرویٹیو صرف165سیٹوں پرسمٹ کررہ گئی تھی۔

برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی زبردست فتح کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب موجودہ وزیر اعظم رشی سنک کی کنزرویٹو پارٹی بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ جیتنے کی صورت میں لیبر پارٹی 14 سال بعد برطانیہ میں دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔

اس بار برطانوی انتخابات میں ہندوستانی نژاد افراد توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہندوستانی نژاد ہندو ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے کنزرویٹو پارٹی نے 30 اور لیبر پارٹی نے 33 امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

برطانوی عام انتخابات میں ہندوستانی نژاد ووٹروں کا اہم کردار ہے، اسی لیے حکمران کنزرویٹو پارٹی نے ہندوستانی نژاد 30 افراد کو میدان میں اتارا ہے۔ دوسری جانب لیبر پارٹی نے ہندوستانی نژاد 33 افراد کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔