Bharat Express DD Free Dish

India AI Impact Summit

انڈیا اے آئی سمٹ 2026 کے چوتھے دن فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اے آئی امپیکٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی ڈیجیٹل پیش رفت کو بھرپور انداز میں سراہا۔ صدر میکرون نے کہا کہ بھارت نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو دنیا کا کوئی اور ملک نہیں کر سکا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز قومی دارالحکومت میں واقع بھارت منڈپم میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا بھر سے 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں، 20 سے زیادہ سربراہانِ مملکت اور 500 سے زائد اے آئی ماہرین نے شرکت کی، جس سے اسے عالمی سطح پر ایک تاریخی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔

شام تقریباً 5:30 بجے وزیرِاعظم سی ای او گول میز کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ اس نشست میں عالمی ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبے کی بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران حکومتی قیادت کے ساتھ سرمایہ کاری، تحقیقی تعاون، سپلائی چین اور اے آئی نظاموں کے نفاذ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بھارت نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو یہ لمحہ ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ کی طرح ایک نئے ٹیکنالوجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، ’’یہ شروعات ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ ملک اے آئی کے میدان میں اپنی الگ پہچان قائم کرے گا۔‘‘

شیکھر کپور ہمیشہ بھارت میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بات کرتے رہے ہیں۔ مختلف انٹرویوز میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ اے آئی نوجوانوں کے لیے مفید ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔

ڈی ڈی نیوز کے صحافی تپاس بھٹاچاریہ نے کہا کہ ہر اسٹال بھارت کے بڑھتے ہوئے اے آئی ایکو سسٹم کی گواہی دے رہا ہے۔ سینکڑوں اسٹالز میں مستقبل کی ٹیکنالوجیز پیش کی جا رہی ہیں جو بھارت میں تیار کی جا رہی ہیں۔

گلگوٹیاز یونیورسٹی کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں شامل ہونے کے دوران ایک تنازعہ کے بعد اسٹال سے تمام سامان ہٹانے اور سمٹ سے باہر کرنے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزارت آئی ٹی نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ وہ سمٹ میں اپنے اسٹال کو فوری طور پر خالی کرے۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے اسٹال سے تمام آلات اور پیش کی جانے والی ٹیکنالوجی کو ہٹا دیا گیا۔

عالمی سلامتی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر ایسٹونیا نے روس کی یوکرین کے خلاف جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہے، اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے جنگ روس کے لیے مہنگی ثابت ہو۔

برازیل کے صدر لولا دا سلوا آج سے بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر دہلی پہنچے اور فوری طور پر بھارت کی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ مرکزی وزیر مملکت پبیترا مارگریٹا نے صدر لولا کا پرتپاک استقبال کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں جاری ’اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے موقع پر فن لینڈ کے فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹیری سے دوطرفہ بات چیت کی، جسے دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔ ملاقات میں تجارت، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے شعبوں پر زور دیا گیا۔