نئی دہلی: گلگوٹیاز یونیورسٹی کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں شامل ہونے کے دوران ایک تنازعہ کے بعد اسٹال سے تمام سامان ہٹانے اور سمٹ سے باہر کرنے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب یونیورسٹی نے ایک چینی اے آئی روبو ڈاگ Unitree Go2 کو اپنی تخلیق کے طور پر سمٹ میں ”Orion“ کے نام سے پیش کیا، جسے آن لائن تقریباً 2 سے 3 لاکھ روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
وزارت آئی ٹی کی ہدایات اور یونیورسٹی کا موقف
وزارت آئی ٹی نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ وہ سمٹ میں اپنے اسٹال کو فوری طور پر خالی کرے۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے اسٹال سے تمام آلات اور پیش کی جانے والی ٹیکنالوجی کو ہٹا دیا گیا۔ تاہم، ڈاکٹر ایشوریہ سری واستو نے وضاحت دی کہ انہیں سمٹ چھوڑنے کا کوئی باقاعدہ حکم نہیں ملا ہے اور یونیورسٹی اگلے دو دن تک نمائش میں شامل رہے گی۔
Following the row over the display of a Chinese made robodog at the AI Impact Summit, Galgotias University has been asked to vacate the Expo area at the summit, Government sources say. pic.twitter.com/cA5uYhTZKc
— ANI (@ANI) February 18, 2026
تنازعہ پر سیاستدانوں کی رائے
اس واقعے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا، “بھارت کی قابلیت اور ڈیٹا کے فائدے کی بجائے، اے آئی سمٹ ایک بےترتیب پی آر تماشا بن چکا ہے، جہاں بھارتی ڈیٹا فروخت کیا جا رہا ہے اور چینی مصنوعات پیش کی جا رہی ہیں”۔
یونیورسٹی کی وضاحت
یونیورسٹی نے اپنے موقف میں کہا کہ Unitree Go2 ایک چینی روبوٹکس فرم Unitree کی مصنوعات ہے اور اسے صرف تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بیان دیا ہے کہ “Unitree سے حال ہی میں ملا روبو ڈاگ ایک تعلیمی عمل کا حصہ ہے۔ یہ صرف دکھانے کے لیے نہیں رکھا گیا، بلکہ یہ ایک چلتی پھرتی کلاس روم ہے۔ ہمارے طلباء اس کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اس کی حدود کو پرکھ رہے ہیں اور اس عمل میں اپنی علمی صلاحیت بڑھا رہے ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ گل گوٹیا نے یہ روبو ڈاگ نہیں بنایا اور نہ ہی کبھی ایسا دعویٰ کیا”۔
— Galgotias University (@GalgotiasGU) February 17, 2026
تنازعہ کی بنیاد
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں یونیورسٹی پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اے آئی روبوٹ کو اپنی تخلیق ظاہر کیا، جس پر صارفین نے تنقید کی کہ درآمد شدہ ٹیکنالوجی کو ملک میں ڈیولپ کردہ پروڈکٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
پروفیسر نیہا سنگھ کی وضاحت
پروفیسر نیہا سنگھ نے کہا، “سوشل میڈیا میں چیزیں بہت تیزی سے وائرل ہوتی ہیں۔ کئی چیزیں وائرل ہو گئی ہیں لیکن میں اس پر براہ راست تبصرہ نہیں کرنا چاہتی۔ اپنے ادارے کی بنیاد پر یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہم ایک ذمہ دار یونیورسٹی ہیں اور ہم نے کہیں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ مصنوعات ہم نے تیار کی ہیں”۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اے آئی سمٹ میں انوویشن اور ٹیکنالوجی کی نمائش کے دوران یونیورسٹی کی طرف سے پیش کیے گئے روبوٹ کی اصل حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ وزارت اور یونیورسٹی کے درمیان اس معاملے میں کارروائی نے اے آئی سمٹ میں شفافیت اور درست نمائندگی کے معاملے کو اجاگر کیا ہے اور مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچنے کے لیے واضح ہدایات اور نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
