Bharat Express DD Free Dish

India AI Impact Summit: انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: پالیسی سے عمل درآمد تک ایک فیصلہ کن مرحلہ، 2.5 لاکھ شرکاء کی رہی موجودگی

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بھارت نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو یہ لمحہ ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ کی طرح ایک نئے ٹیکنالوجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، ’’یہ شروعات ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ ملک اے آئی کے میدان میں اپنی الگ پہچان قائم کرے گا۔‘‘

نئی دہلی: انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے تازہ تبصروں میں اسے بھارت کے لیے ایک ’’تبدیلی کا لمحہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کسی بھی بڑے سرکاری سمٹ کا ایجنڈا مکمل نہ بھی ہو یا تنظیمی پہلو کمزور ہوں، لیکن جب حکومت اتنی بڑی سطح پر وسائل اور توجہ مختص کرتی ہے تو مصنوعی ذہانت (AI) پورے سرکاری نظام کے لیے ترجیح بن جاتی ہے۔ تبصرہ نگار نے کہا کہ ایسے اقدامات وزارتی محکموں، ریاستی حکومتوں، صنعتوں اور طلبہ کے درمیان اے آئی کے عملی استعمال سے متعلق سوچ کو فروغ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں گورننس اور پالیسی سازی میں اے آئی اپنانے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق، مرکزی اور ریاستی سطح کی وزارتوں میں اے آئی کے نفاذ سے متعلق سنجیدہ غور و فکر ہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ اس سے ٹیکنالوجی کے اطلاق کا وقت کم ہو جاتا ہے۔

’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ کی طرح اے آئی سمٹ بھی خاص

ماہرین نے اس پیش رفت کا موازنہ ماضی کے ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ اقدام سے کیا، جس نے سرکاری خدمات میں ڈیجیٹلائزیشن اور آن لائن سہولتوں کے فروغ کو نئی رفتار دی تھی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں شروع ہونے والے اس مشن نے سرکاری نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو عام کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ اے آئی سمٹ بھی اسی نوعیت کا ایک موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں اصل اہمیت ایجنڈے کی باریکیوں سے زیادہ اس بات کی ہے کہ ملک میں اے آئی اپنانے کی رفتار تیز کی جائے۔

2.5 لاکھ افراد کی شرکت: ذہنی تبدیلی کا آغاز

سمٹ میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار افراد، بالخصوص طلبہ کی شرکت کو ایک بڑے ذہنی انقلاب کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں کی اس بڑی تعداد کی شمولیت ملک میں اے آئی کے حوالے سے شعور اور دلچسپی کو نئی سطح تک لے جائے گی۔ انہوں نے حکومت ہند اور وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی سمٹ کو ’’انڈیا اسکیل‘‘ پر منعقد کرنا عالمی سطح پر ایک مضبوط پیغام ہے کہ بھارت اس ٹیکنالوجی کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

عالمی مقابلہ: امریکہ، چین اور بھارت

تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اگرچہ امریکہ اور چین کے مقابلے میں کچھ شعبوں میں پیچھے دکھائی دیتا ہے، لیکن اے آئی کی دوڑ جیتنے کے لیے کئی عناصر درکار ہوتے ہیں، جن میں ہارڈویئر، تربیتی ڈیٹا، ماڈل آرکیٹیکچر اور استعمال کا پھیلاؤ شامل ہیں۔ عالمی سطح پر ChatGPT جیسے پلیٹ فارم تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جبکہ گوگل کا Gemini اور مائیکروسافٹ کا Microsoft Copilot اپنی اپنی سروسز میں ضم ہو کر صارفین کی عادت سازی کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، عالمی ماڈلز کا استعمال بھارت میں مقامی ماڈلز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور اس محاذ پر مقامی کمپنیوں کے لیے مقابلہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔

مواقع کہاں باقی ہیں؟

ماہرین کے مطابق اصل موقع ’’سیکٹرل ڈیفیوژن‘‘ میں ہے، یعنی تعلیم، صحت، دفاع، تجارت، گورننس، مینوفیکچرنگ اور فارماسیوٹیکل تحقیق جیسے شعبوں میں اے آئی کا مؤثر استعمال۔ اوپن سورس ماڈلز کو اپنانے اور مقامی زبانوں کے لیے چھوٹے لینگویج ماڈلز تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بھارت نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو یہ لمحہ ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ کی طرح ایک نئے ٹیکنالوجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، ’’یہ شروعات ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ ملک اے آئی کے میدان میں اپنی الگ پہچان قائم کرے گا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read